- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
کیا ہم تراویح کی چار رکعات اکٹھی پڑھ سکتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
تراویح کی نماز میں چار رکعتوں کے بعد سلام پھیرنا مکروہ ہے۔ تراویح اگرچہ ہو جائے گی لیکن ایک متواتر عمل (یعنی دو دو رکعت پر سلام پھیرنے) کی مخالفت کی وجہ سے مکروہ اور ناپسندیدہ ہو گی۔ اس لیے آپ دو دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا کریں۔ چار چار رکعات اکٹھی نہ پڑھیں تاکہ سال بعد آنے والی یہ عبادت بلا کراہت درست ادا ہو سکے۔علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی الحنفی(ت1088ھ) لکھتے ہیں:
فلو فعلها بتسليمة فإن قعد لكل شفع صحت بكراهة․(الدر المختار مع رد المحتار: ج2 ص495 باب الوتر والنوافل)
ترجمہ: کسی نے ساری تراویح ایک سلام سے پڑھی تو دیکھا جائے کہ اگر اس نے ہر دو رکعت پر قعدہ کیا تو تراویح تو ہو جائے گی لیکن کراہت کے ساتھ ہو گی۔علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی (ت1252ھ) علامہ حصکفی رحمۃ اللہ علیہ کی مذکورہ عبارت کی تشریح میں لکھتے ہیں:
قوله ( وصحت بكراهة ) أي صحت عن الكل وتكره إن تعمد وهذا هو الصحيح․․․ فإنه لا يخفى لمخالفته المتوارث.(رد المحتار مع الدر المختار: ج2 ص495 مبحث صلاۃ التراویح)
ترجمہ: یعنی جتنی رکعتیں دو رکعت پر قعدہ کرنے سے پڑھی ہیں وہ ساری رکعتیں شمار تو ہوں گی لیکن جان بوجھ کر ایسا کرنا مکروہ ہے اور یہی بات صحیح ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا کرنے سے ایک متواتر عمل (یعنی دو دو رکعت پر سلام پھیرنے) کی مخالفت ہوتی ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved