• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

نماز میں مخصوص سورتوں کے التزام اور اہتمام کا حکم

استفتاء

خدمتِ اقدس میں عرض ہےکہ بندہ تقریبا ہر جمعہ کو (باستثناءِ چند جمعہ) جمعہ کی نماز میں سورۃ الأعلی اور سورۃ الغاشیۃ کی تلاوت کرتاہے (من حیث السنۃ) ؛ اس پر ہمارے ایک مقتدی صاحب نے یہ فرمایا کہ آپ کا یہ عمل بالکل غلط اور خلافِ شرع ہے (کہ ہر جمعہ کو آپ ان دونوں سورتوں کا التزام کرتے ہیں) ۔

جبکہ میں ان سورتوں کو بطورِ التزام قطعا نہیں پڑھتا بلکہ محض بنیتِ مسنون پڑھتاہوں ؛ (چنانچہ کسی جمعہ کو اس کا ترک بھی کردیتاہوں)

دریافت طلب امر یہ ہےکہ آیا ان صاحب کا یہ اعتراض بجاہے یا نہیں؟ اور ان کا اس کے ترک پر اصرار کس حد تک (از روئے شرع) مباح اور درست ہے ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آپ کے سوال کے جواب میں چند اصولی باتیں پیش کی جاتی ہیں جن سے آپ کی مطلوبہ جزئیات کا جواب واضح ہو جائے گا:

[۱]:          احادیث مبارکہ میں بعض نمازوں میں مخصوص سورتوں کی جو قرأت کرنا منقول ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ان صورتوں کو کبھی کبھی ان نمازوں میں پڑھ لیا جائے۔ اگر کوئی شخص انہی سورتوں کی یوں پابندی کرے کہ ان کے علاوہ کوئی اور سورت نہ پڑھے تو ایسا کرنا مکروہ ہے۔

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی  الحنفی(ت1088ھ) لکھتے ہیں:

( ويكره التعيين ) كالسجدة و هل أتى لفجر كل جمعة بل يندب قراءتهما أحيانا.

(الدر المختار للحصکفی: ج1 ص544)

ترجمہ: کسی خاص سورت کو نماز میں متعین کر کے پڑھنا مکروہ ہے جیسے کوئی شخص سورۃ  السجدۃ اور سورۃ ”هل أتى علی الانسان“کو ہر جمعہ کی نمازِ فجر میں پڑھے تو مکروہ ہے۔ ہاں کبھی کبھی ان کو پڑھ لینا مستحب ہے۔

[۲]:          مخصوص سورتوں کو التزاماً نہ پڑھا جائے۔ التزام نہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ کبھی پڑھا جائے اور کبھی ترک کیا جائے لیکن اس ”پڑھنے“ اور ”ترک کرنے“ کی تعین و تحدید نہ شریعت نے متعین کی ہے اور نہ ہی ممکن ہے البتہ امام  کو چاہیے کہ اس سورتوں کو یوں پڑھ لیا کرے اور کبھی ترک کر لیا کرے جس سے مقتدیوں کو معلوم ہو جائے کہ امام صاحب التزام نہیں کر رہے۔ اگر مقتدی یہ سمجھ رہے ہوں کہ امام صاحب التزام کر رہے ہیں تو اب بھی مکروہ ہو گا۔

چنانچہ  علامہ محمد امین بن عمر بن عبد العزیز بن احمد ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:

إن رأى ذلك حتما يكره من حيث تغيير المشروع وإلا يكره من حيث إيهام الجاهل.

                                          (ردا لمحتار لابن عابدین: ج1 ص544)

ترجمہ: اگر یہ شخص اس سورت کو پڑھنا لازم و ضروری سمجھتا ہے تو یہ مکروہ ہے کیونکہ یہ شرعی حکم کو بدلنے کے مترادف ہے (کہ شریعت نے لازمی قرار نہیں دیا اور یہ شخص لازم قرار دے رہا ہے) اور اگر لازم و ضروری نہیں سمجھ رہا (لیکن اہتمام سے پڑھ رہا ہے) تو بھی مکروہ ہے کیونکہ اس سے عامی آدمی کو یہ وہم ہو گا کہ ایسا کرنا ضروری ہے (تبھی تو امام صاحب ہمیشہ یہی سورتیں پڑھتے ہیں)

[۳]:          یہ بات آپ خود نیز وہاں کے معتبر اور ذی رائے مقتدی حضرات ہی متعین کر سکتے ہیں کہ آپ کا ان دو سورتوں کو پڑھنا کس زمرے میں آتا ہے؟ اگر آپ التزام کرتے ہیں تو یہ مکروہ ہو گا۔ اگر التزام تو نہیں کرتے لیکن اہتمام ایسا کرتے ہیں جس سے مقتدیوں کو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کثرت سے یہ عمل کر رہے ہیں تب بھی مکروہ ہو گا۔ ہاں اگر التزام بھی نہیں اور اس درجہ اہتمام بھی نہیں تو اب کسی مقتدی کا اشکال کرنا درست نہ ہو گا۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved