• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

نماز کے بعد امام کا قبلہ رو ہو کر دعا کرنا

استفتاء

امام جب نماز سے فارغ ہو جائے تو اگر وہ قبلہ رخ ہوکر دعا مانگتا ہے تو اس میں کوئی حرج تو نہیں ہے؟ رہنمائی فرما دیں !

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جن فرض نمازوں کے بعد سنتیں اور نوافل مشروع نہیں، جیسے فجر اور عصر، ان کے بعد امام کے لیے مستحب اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد مقتدیوں کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھے۔ اور جن فرض نمازوں کے بعد سنتیں یا نوافل ادا کرنا مسنون ہے، جیسے ظہر، مغرب اور عشاء، ان کے بعد امام کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ قبلہ رخ ہی بیٹھا رہے اور مقتدیوں کی طرف رخ نہ کرے۔تاہم یہ حکم محض استحباب کے درجے میں ہے، نہ کہ فرض یا واجب؛ اس لیے اگر امام نماز کے بعد قبلہ رخ ہی بیٹھ کر دعا مانگ لے تو اس میں کوئی گناہ نہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved