• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

نابالغ کی اذان واقامت کا حکم

استفتاء

کیا نابالغ کی اذان واقامت کا کیا حکم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر بچہ سمجھدار ہے تو اس کی اذان اور اقامت درست ہے۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

أَذَانُ الصَّبِيِّ الْعَاقِلِ صَحِيحٌ مِنْ غَيْرِ كَرَاهَةٍ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ.

                                                     (فتاویٰ عالمگیری: ج1 ص54)

ترجمہ: سمجھدار بچے کی اذان درست ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں۔ظاہر الروایہ یہی ہے۔

اذان کا مرتبہ ؛ اقامت سے زیادہ ہے۔ جب اذان درست ہے تو اقامت بھی اسی حکم میں ہو کر درست شمار ہو گی۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved