• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

مشترکہ طعام میں کسی ایک شریک کی حرام رقم شامل ہوتو کیا حکم ہے؟

استفتاء

چار دوست ہیں۔ وہ آپس میں پیسے جمع کر کے کھانے کی کوئی چیز منگاتے ہیں یا پھر کھانا بناتے ہیں۔ ان میں سے ایک دوست کے پیسے حرام کی کمائی کے ہیں جس کا علم باقی دوستوں کو بھی ہے۔ کیا اس ایک دوست کے پیسے حرام ہونے کی وجہ سے اس دعوت کا کھانا ہم کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر حلال و حرام رقم مخلوط ہو لیکن حلال رقم زیادہ ہو اور حرام رقم کم ہو (جیسا کہ سوال میں مذکورہ صورت ہے) تو بوقتِ ضرورت اس قسم کی رقم سے کھانا کھانے کی گنجائش ہے لیکن تقویٰ بہرحال یہی ہے کہ اس قسم کے کھانے سے اجتناب کیا جائے۔فتاویٰ عالمگیری میں ہے:آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها. (فتاویٰ عالمگیری: ج5 ص422)ترجمہ: سود خور اور حرام کمائی والا شخص اگر ہدیہ بھیجے یا دعوت کرے اور اس کے مال کا زیادہ تر حصہ حرام مال کا ہو تو اس کا ہدیہ قبول نہ کریں اور نہ اس کا کھانا کھائیں۔ ہاں اگر وہ یہ صراحت کر دے کہ یہ (ہدیہ یا دعوت) حلال مال سے کیا گیا ہے مثلاً وہ یہ کہتا ہے کہ مجھے وراثت کا مال ملا تھا یا کسی سے قرض لیا ہے تب قبول کرنا جائز ہے۔ اور اگر اس شخص کے مال کا غالب حصہ حلال ہے تو ہدیہ قبول کرنے اور کھانا کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved