• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

مشترکہ میراث میں ذاتی رقم سے بنائے گئے مکان کی شرعی حیثیت اور اسے تقسیم کرنے کا طریقہ

استفتاء

ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے۔ وارثین میں ہماری والدہ ، ہم چار بھائی  اور دو بہنیں ہیں۔ وراثت کا کل رقبہ  گیارہ مرلے کا ہے۔ چھ  دکانیں اور  چار  منزلہ گھر ہےجس میں سے چوتھی منزل مکمل اور  تیسری  منزل کے اندرونی حصے کا خرچہ بڑے بھائی نے ذاتی پیسوں سے کیا ہے۔باقی پورے گھر اور دکانوں کی ہر چیز کا خرچہ والدہ اور بڑے بھائی نے کسی سے قرضہ لے کر بنایا ہے۔ پہلے پورشن اور سب دکانوں سے جو کرایہ ملتا تھا اسی سے قرضے کی ادائیگی کی گئی۔ اب جب بھی اس میں رہائش کے لیے اگر کوئی چھوٹا بھائی یا والدہ ارادہ کرتے ہیں تو بڑا بھائی یہ مطالبہ کرتا ہے کہ پہلے مجھے میرے پیسے دے دو جو میں نے لگائے ہیں تب آ کر رہ لینا ! جبکہ بڑے بھائی کو والدہ نے کئی مرتبہ منع کیا کہ یہ اجتماعی میراث ہے، اس میں اپنی مرضی سے خرچہ مت کرو، تقسیم کے وقت تم ادائیگی کا مطالبہ کرو گے اور ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہوں گے مگر بڑا بھائی نہ مانا اور خرچہ کرتا رہا۔ اب جب میراث کو تقسیم کرنے کا کہتے ہیں تب بھی اس کا یہی مطالبہ ہے کہ پہلے مجھے میرے پیسے دو جو میں نے لگائے ہیں تب اس کو تقسیم کرنا!جبکہ چھوٹے بہن بھائیوں اور والدہ کے پاس اتنی رقم موجود نہیں ہے اور رہائش کے حوالے سے موجودہ مکان میں بہت مشکل کا سامنا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ اس مسئلہ کی وجہ سے  آپس میں جھگڑا فساد ہو۔لہذا اس مسئلہ کو شرعی اعتبار سے حل کر کے ہماری رہنمائی کی جائے ۔

نوٹ: قرضہ لے کر اس مکان پر لگائے گئے پیسوں میں سے کچھ قرضہ بھی باقی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مسئلہ کے شرعی حل سے قبل تین امور ملحوظ رکھے جائیں:

(1):    والد صاحب کے انتقال کے وقت گیارہ مرلے زمین اور اس پر جو بھی تعمیر  موجود تھی تو آپ کی والدہ اور  آپ بہن بھائی ان مجموعی چیزوں کے  وارث ہیں۔

(2):    تیسری منزل کا اندرونی حصہ اور  چوتھی منزل مکمل کی تعمیر چونکہ بڑے بھائی نے اپنی ذاتی رقم سے کی ہے اس لیے اس عمارت  (تیسری منزل کا اندرونی حصہ اور  چوتھی منزل مکمل) کا مالک تن تنہا بڑا بھائی ہے۔ اس تعمیر میں دوسرے بھائیوں اور والدہ کا حق نہیں ہے۔

(3):    تیسری منزل کا اندرونی حصہ اور  چوتھی منزل مکمل کے علاوہ باقی تمام تعمیر اگرچہ والدہ اور بڑے بھائی نے رقم قرض لے کر تعمیر کروائی ہے لیکن چونکہ اس قرض کی ادائیگی مشترک حصہ (دکانوں اور پہلے پورشن)  کے کرایہ سے ہو رہی ہے اس لیے یہ تعمیر شدہ حصہ بھی  تمام وارثین میں مشترک ہو گا۔ کیونکہ مشترک میراث کا جو اضافہ اس میراث کی رقم سے حاصل ہو اسے بھی میراث میں شامل کر کے تقسیم کرنا ضروری ہے۔

ان تین امور کو ملاحظہ کرنے کے بعد صورت مسئولہ کا حکم یہ ہے کہ…

[۱]:          جس حصہ میں تمام وارثین کا حق بنتا ہے وہ شرعی تقسیم کے مطابق انہیں دینا ضروری ہے۔ اس لیے بڑے بھائی کی تعمیر کے علاوہ تمام دکانوں اور مکان کو وارثین میں تقسیم کر دیا جائے۔ طریقہ یہ ہے کہ اس وراثت کے 80 حصے کے جائیں۔ مرحوم کی بیوہ  کو 10 حصے، ہر  بیٹے کو 14 حصے اور ہر بیٹی کو 7 حصے دیے جائیں۔ تقسیم کا نقشہ یہ ہے:

کل حصےبیوہبیٹابیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹی
80101414141477

[۲]:   جو تعمیر بڑے بھائی کی ملکیت ہے (تیسری منزل کا اندرونی حصہ اور  چوتھی منزل مکمل)  اگر ممکن ہو تو پوری عمارت کو فروخت کر دیا جائے اور اس کی کل مالیت میں  سے مشترک حصہ کی رقم وارثین میں مذکورہ نقشے کے مطابق تقسیم کر دی جائے اور جو حصہ خالصتاً بڑے بھائی کا ہے اسی تناسب کی رقم بڑے بھائی کو دے دی جائے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو باقی وارثین کو شرعی حق حاصل ہے کہ وہ بڑے بھائی کو تعمیر ہٹانے پر محبور کریں۔  جب باقی وارثین اس تعمیر کے رکھنے پر راضی نہ ہوں تو بڑے بھائی کو تعمیر باقی رکھنے کا کوئی حق نہیں۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved