- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
حضرت! عرض یہ ہے کہ ہمارے محلے کے قریب ایک مسجد ہے اور اس مسجد میں میرا اس سال اعتکاف پر بیٹھنے کا ارادہ ہے لیکن اس مسجد کے محلہ داروں میں سے ایک گهرانہ ایسا ہے جس کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ ان کی کمائی حرام کی ہے لیکن میں نے خود اپنی آنکھوں سے ان کو حرام کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ بظاہر تو اس گھرانے کے افراد میں سے کوئی واپڈا میں ہے اور کوئی پراپرٹی ڈیلر ہے اور وہ مسجد میں تعاون بھی کرتے ہیں۔ تو میری گزارش یہ ہے کہ اگر اس گھرانے کے افراد اعتکاف والوں کے لیے کوئی کهانا لائیں یا کوئی نقدی تعاون کریں تو کیا اعتکاف والوں کے لیے وہ لینا چطاہیے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
محض شک اور لوگوں کے کہنے سے کسی کی کمائی کو حرام نہیں کہا جا سکتا۔ اس حوالے سے آپ خود تحقیق کریں کہ اگر ان کی آمدن کا زیادہ تر حصہ حرام ہو تو ان کے کھانے اور نقدی تعاون سے اجتناب کریں۔ ہاں اگر ان کی آمدن حلال ہو یا آمدن میں کچھ حصہ حرام ہے اور اکثر حصہ حلال ہے تو ان کا کھانا کھانے اور ان کا ہدیہ لینے میں کوئی حرج نہیں۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved