- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
موزوں پہ مسح تین انگلیوں سے کرنا چاہیے یا چار انگلیوں سے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مستحب یہ ہے کہ پورے ہاتھ سے مسح کیا جائے جس میں پانچوں انگلیاں اور ہتھیلی سب شامل ہوں البتہ فرض مقدار تین انگلیوں سے مسح کرنا ہے۔ کوشش کی جائے کہ مستحب پر عمل کیا جائے۔فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
وَمِنْهَا: أَنْ يَكُونَ الْمَسْحُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ وَهُوَ الصَّحِيحُ…. وَلَوْ وَضَعَ الْكَفَّ وَمَدَّهَا أو وَضَعَ الْأَصَابِعَ وَمَدَّهَا كِلَاهُمَا حَسَنٌ وَالْأَحْسَنُ أَنْ يَمْسَحَ بِجَمِيعِ الْيَدِ.(ج1 ص32، 33)ترجمہ: موزے پر مسح کے فرائض میں سے ایک فرض یہ ہے کہ تین انگلیوں کی مقدار مسح کیا جائے اور یہی بات صحیح ہے۔ اگر کسی نے مسح کرتے ہوئے اپنی ہتھیلی کو پاؤں پر رکھ کر (اوپر کی جانب) کھینچی یا اپنی انگلیوں کو پاؤں پر رکھ کر کھینچا تو یہ دونوں صورتیں بہتر ہیں لیکن بہترین صورت یہ ہے کہ پورے ہاتھ سے مسح کیا جائے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved