• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

موجودہ حالات میں گھروں میں جمعہ کی ادائیگی کے متعلق ایک سوال اور چند اشکالات کے جوابات

استفتاء

﴿حصہ سوال و جواب﴾سوال:
مختلف ممالک اور پاکستان کے مختلف شہروں سے کئی ایک حضرات نے یہ سوال کیا ہے کہ اس وقت حکومت مساجد میں جمعہ پڑھنے کی اجازت نہیں دے رہی یادے تو رہی ہے لیکن محدود اَفراد کی شرط کے ساتھ۔ اب ہم ان حالات میں گھروں میں جمعہ کی نماز ادا کریں یا ظہر کی نماز ادا کریں؟ اگر ظہر کی نماز پڑھی جائے تو جماعت کے ساتھ پڑھی جائے یا اکیلے پڑھی جائے؟جواب:
19 مارچ 2020ء کو مرکز اھل السنۃ والجماعۃ سرگودھا سے ہم نے اس سوال کا تفصیل سے جواب دیا ہے۔ اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ ان حالات میں جن علاقوں میں جمعہ کی شرطیں پائی جاتی ہیں تو وہاں جمعہ پڑھا جائے۔ چنانچہ امام کے علاوہ تین بالغ مرد مقتدی ہوں تو کوئی مختصر سا خطبہ دے کر جمعہ ادا کیا جائے۔ البتہ اگر صورتِ حال ایسی ہو کہ خطبہ دینے والا کوئی شخص میسر نہ ہو یا جو اَفراد موجود ہیں وہ امام کے علاوہ تین سے کم ہو یا اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے جمعہ ادا نہ کر سکیں تو پھر فقہائے کرام کی تصریح کے مطابق ظہر کی نماز اکیلے اکیلے پڑھ لیں، ظہر کی جماعت نہ کروائیں۔واضح رہے کہ ہمارے اس جواب (19 مارچ 2020 ء) کے بعد ہمارے مادرِ علمی دار العلوم دیوبند سے یکم اپریل 2020ء کو ایک فتویٰ شائع ہوا۔ اس فتویٰ میں بھی یہی بات کی گئی تھی۔ یہ فتویٰ ۱۰۶/ تتمہ/ ن ۱۴۴۱ھ کے نمبر سے شائع ہوا ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

﴿حصہ اشکالات و جوابات﴾گھروں میں نماز جمعہ پڑھنے کے حوالے سے مختلف ممالک سے مختلف حضرات کی طرف سے چند اشکالات آئے ہیں۔ چونکہ یہ اشکال باہم ملتے جلتے ہیں اس لیے افادۂ عام کے لیے سب کا جواب یکجا صورت میں دیا جا رہا ہے:اشکال نمبر 1:
جمعہ کے لئے تو مسجد کا ہونا ضروری ہے، گھروں میں جمعہ پڑھنے کی صورت میں یہ شرط مفقود ہو جاتی ہے۔جواب:
یہ اشکال زیادہ کیا جا رہا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عوام کو گھروں میں جمعہ کی ادائیگی پر الجھن اس لیے پیش آ رہی ہے کہ عوام یہ سمجھتی ہے جمعہ کی ادائیگی کے درست ہونے کے لئے مسجد کا ہونا ضروری ہے، اس لیے اگر مسجد میں جمعہ نہ پڑھا تو ادا ہی نہ ہو گا!!لیکن صحیح بات یہ ہے کہ جمعہ کے قیام کے لئے مسجد کا ہونا شرط ہی نہیں ہے۔ اس لیے اگر دیگر شرائط موجود ہوں تو کہیں بھی جمعہ پڑھا جا سکتا ہے خواہ مسجد میں پڑھا جائے یا اس کے علاوہ کسی گراؤنڈ، خیمہ، بلڈنگ یا کسی گھر میں ۔علامہ ابراہیم بن محمد بن ابراہیم الحلبی الحنفی (956ھ) لکھتےہیں:
اَلْمَسْجِدُ الْجَامِعُ لَیْسَ بِشَرْطٍ. (الحلبی الکبیر: ص 551فصل صلو ۃ الجمعۃ )ترجمہ: صحتِ جمعہ کے لیے جامع مسجد کا ہونا شرط نہیں ہے۔اشکال نمبر 2:
گھروں میں جمعہ پڑھنا جمعہ کی روح کے منافی ہے۔ جمعہ کی اصل روح اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب جمعہ مسجد میں ادا کیا جائے جس میں عوام کی ایک بڑی تعداد شامل ہوتی ہو، یوں امتِ مسلمہ کی شان و شوکت اور اَفرادی قوت کا اظہار ہوتا ہے۔ گھروں میں جمعہ ادا کرنا اس ”روحِ جمعہ“ کے منافی ہے۔جواب:
اگر اس بنیاد پر گھروں میں جمعہ کی اجازت نہ دی جائے تو ضروری ہے کہ پھر گھروں میں پانچ وقتہ نماز با جماعت کی اجازت بھی نہ دی جائے کیونکہ نماز میں بھی اصل اور روح یہی ہے کہ مسجد میں ہو اور باجماعت ہو! حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ گھروں میں با جماعت نماز کی وجہ محض یہی ہے کہ پابندی کی وجہ سے اس کی ادائیگی مسجد میں ممکن نہیں ہے، اس لیے مجبوری کے پائے جانے کی وجہ سے یہ ”روحِ جماعت“ کے منافی نہیں، اسی طرح گھروں میں جمعہ کی ادائیگی کا حکم دینا بھی محض اس لیے ہے کہ مساجد میں جمعہ پڑھنا ممکن نہیں ہے اس لیے مجبوری کے پائے جانے کی وجہ سے یہ بھی ”روحِ جمعہ“ کے منافی نہیں۔اشکال نمبر3:
گھروں میں نمازِ جمعہ ادا کرنے میں ”اذنِ عام“ نہیں پایا جا رہا کیونکہ گھر کے موجود اَفراد کے علاوہ دیگر لوگ اس میں شامل نہیں ہو سکتے جبکہ صحتِ جمعہ کے لیے اذنِ عام شرط ہے۔جواب:
”اذنِ عام“ کا معنیٰ یہ ہے کہ ہر آدمی کو نمازِ جمعہ میں شرکت کی اجازت دی جائے اور کسی کو بھی جمعہ ادا کرنے کے لیے مقامِ جمعہ سے روکا نہ جائے۔ اگر کہیں لوگوں کو جمعہ کی ادائیگی سے تو نہ روکا جائے بلکہ روکنے کی وجوہات کوچھ اور ہوں مثلاً انتظامی، حفاظتی یا سکیورٹی ایشوز وغیرہ تو یہ ”اذنِ عام“ کی شرط کے منافی نہیں۔ جیسے فوجی چھاؤنی، سفارتخانہ، جیل وغیرہ میں عام افراد کو داخلے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود علماء وہاں جمعہ پڑھنے کو جائز قرار دیتے ہیں۔حکیم الامت مجدد الملت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
” اذنِ عام ہو نا بھی منجملہ شرائط صحت جمعہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ خود نماز پڑھنے والے کو روکنا وہاں مقصود نہ ہو۔ باقی اگر روک ٹوک کسی اور ضرورت سے ہو وہ ”اذنِ عام“ میں مخل نہیں ہے۔“ (امداد الفتاویٰ: ج 1ص481)شیخ الاسلام حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”اگر چھاؤنی یا قلعہ میں جمعہ ادا کیا جائے تو جائز ہے گو چھاؤنی اور قلعے میں دوسرے لوگ نہ آ سکتے ہوں ؛ کیونکہ مقصود نماز سے روکنا نہیں ہے ؛ بلکہ انتظام مقصود ہے۔“(امدادالاحکام : ج1 ص751)
اس لیے گھروں میں جمعہ کی ادائیگی کے لیے باہر کے اَفراد کو نہ آنے دینا ایک مصلحت کی وجہ سے ہے (تاکہ بڑ اجتماع نہ بن جائے اور ایسا اجتماع اس موقع پر احتیاطی تدبیر کے خلاف ہے) تو یہ بھی ”اذنِ عام“ کے منافی نہیں۔نیز اگر بظاہر ”اذنِ عام“ والی شرط نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی درست قرار نہ دی جائے تو پھر وہ مسجد جہاں پانچ سے زائد افراد کے جمعہ پڑھنے پر پابندی ہے وہاں بھی جمعہ درست نہیں ہونا چاہیے کہ وہاں بھی تو اذنِ عام نہیں جبکہ وہ تمام حضر ات جو گھروں میں نمازِ جمعہ کے جواز کے قائل نہیں وہ اس پابندی کے باوجود مسجد میں جمعہ کے جائز ہونے کے قائل ہو رہے ہیں تو اگر یہ بنیاد درست ہے تو اس بنیاد پر مساجد میں بھی جمعہ جائز نہ ہونا چاہیے! معلوم ہوا کہ جس طرح مسجد میں محدود افراد کی اجازت کے باوجود جمعہ کی اجازت ہے اسی طرح گھروں میں بھی اجازت ہے۔اشکال نمبر4:
عرب ممالک میں حکومت نے مسجد میں نمازِ جمعہ سے منع کیا ہوا ہے اور بعض دوسرے ممالک میں گھروں میں بھی نمازِ جمعہ ادا کرنے سے منع کیا ہوا ہے۔ اس لیے گھر وں میں نماز جمعہ کی ادائیگی درست نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہاں ”امرِ سلطان“ نہیں پایا جا رہا۔جواب:
غیر مسلم ممالک میں تو امرِ سلطان کا مسئلہ نہیں اس لیے وہاں جمعہ ادا کرنے سے ادا ہو جائے گاالبتہ مسلم ممالک میں امرِسلطان کی شرط ملحوظ ہوتی ہے۔ اس لیے اس بارے میں وضاحت یہ سمجھ لی جائے کہ اس صورت میں مسلم ممالک میں بھی گھروں میں جمعہ پڑھنے سے شرعاً ادا ہو جائے گا۔یہاں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ سلطان نے جو منع کیا ہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟ ان علاقوں میں عوام کے رہائشی مکانات اور معاملات میں غور کرنے سے اس منع کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان ممالک میں ایک ایک بلڈنگ میں بسا اوقات سو سو اور دو دو سو تک گھر ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر حکومت یہ حکم جاری کر دے کہ مسجد میں جمعہ کی اجازت نہیں لیکن گھر میں اجازت ہے تو صرف ایک بلڈنگ کے لوگ ہی اگر کسی گھر میں جمع ہو جائیں تو اتنی بڑی تعداد ایک اجتماع کی شکل اختیار کر لے گی جو حفاظتی اصولوں اور قانونی مصلحت کے خلاف ہے۔ جو یقیناً درست نہیں ہے۔ ایسی صورتحال میں حکومت کا روکنا نماز جمعہ کی ادائیگی سے منع کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ اجتماع کی صورت اختیار کرنے سے منع کرنا ہے۔اس منشاء اور بنیاد کے پیشِ نظر اگر ایک ہی گھر میں چار پانچ افراد جو گھر ہی میں موجود ہوتے ہیں، نمازیں بھی باجماعت پڑھ رہے ہوتے ہیں، کھانا بھی اکٹھا کھا رہے ہوتے ہیں اور گھر میں تعلیم و تعلم کا سلسلہ بھی اکٹھے جاری کیے ہوتے ہیں تو یہی چار پانچ افراد اگر اکٹھے ہو کر جمعہ پڑھ لیں تو جمعہ کی یہ ادائیگی سلطان کے منشا اور چاہت کے خلاف نہیں ہو گی۔تنبیہ:
اس تفصیل کے ساتھ یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ اگر کسی مسلم ملک میں سلطان کی طرف سے جمعہ پڑھنے پر صراحتاً پابندی ہو اور عام مساجد، گھروں اور دیگر مقامات پر جمعہ پڑھنے پر حکومت ایکشن بھی لیتی ہو تو اب حکم یہ ہے کہ1: اگر شہر میں کسی ایک جگہ بھی حکومت کی اجازت سے جمعہ ہوتا ہو تو اب گھروں میں ظہر کی نماز باجماعت ادا نہ کی جائے بلکہ اکیلے اکیلے پڑھی جائے۔2: اگر حکومت کسی ایک جگہ بھی جمعہ پڑھنے کی اجازت نہ دیتی ہو تو اب ظہر کی نمازاَفرادِ خانہ کے ساتھ ہی باجماعت ادا کر لی جائے۔ لیکن اگر باجماعت نماز پر بھی سختی ہو اور حکومت کی جانب سے قانون شکنی پر سزا ملنےکا اندیشہ ہو تو انسان معذور ہے۔ اب ظہر کی نماز اکیلے اکیلے پڑھ لی جائے۔اشکال نمبر5:
فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر جمعہ فوت ہو جائے تو ظہر کی نماز انفراداً پڑھنی چاہیے۔ اس لیے اگر مسجد کا جمعہ نہیں مل سکا تو گھر میں بھی جمعہ نہ پڑھنا چاہیے بلکہ فقہاء کے فرمان کے مطابق ظہر انفرادًا پڑھنی چاہیے۔جواب:
جمعہ فوت ہوئے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مثلاً کسی جگہ ایک ہی جمعہ ہوتا ہے، اب ایک آدمی یا چند افراد ایسے وقت میں آن پہنچے کہ جمعہ ہو چکا تھا اور یہ اس میں شریک نہ ہو سکے تو اب ایک شخص ہو یا زیادہ ہوں تو یہ لوگ اکیلے اکیلے نماز پڑھیں، اب جماعت نہ کروائیں لیکن یہاں صورتحال مختلف ہے۔ یہاں جمعہ فوت نہیں ہوا بلکہ اس کے متبادل دوسرا جمعہ قائم کیا جا رہا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک علاقے میں چار پانچ جگہ پر جمعہ ہوتا ہے۔ اب ایک شخص ایک جمعہ میں ایسے وقت میں پہنچا کہ جمعہ پڑھا جا چکا تھا تو ظاہر بات ہے کہ یہ شخص دوسری جگہ والے جمعہ میں شرکت کرے گا۔ اب اس کو یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ اس سے جمعہ فوت ہو گیا ہے لہذا یہ گھر جا کر نماز پڑھ لے اور دوسرے جمعہ میں نہ جائے!! بلکہ ہم اسے کہیں گے کہ یہ شخص دوسری جگہ جا کر جمعہ پڑھے لے۔ اب یہ دوسری جگہ عام ہے خواہ مسجد ہو، کوئی مصلیٰ ہو یا کوئی ہال ہو۔تو یہاں بھی یہی صورتحال ہے کہ اگر مسجد میں جمعہ نہیں مل رہا تو اس کے متبادل گھر میں دوسرا جمعہ ادا کیا جا رہا ہے۔ لہذا اس کو ”فواتِ جمعہ“ نہ کہیں گے بلکہ ایک جمعہ میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے دوسری جگہ پر جمعہ میں شرکت کرنا کہیں گے۔اشکال نمبر 6:
اگر گھروں میں جمعہ پڑھنے کی یوں عام اجازت دی جائے تو عوام اس سے غلط فائدہ اٹھائیں گے اور آئندہ بلا عذر بھی گھروں میں جمعہ پڑھنے لگیں گے۔ یوں ایک سستی اور کاہلی کا ایک نیا دروازہ کھلنے کا اندیشہ ہے۔جواب:
یہ بھی محض ایک احتمالی اور فرضی چیز ہے۔یہ تو بالکل ایسے ہے جیسے ایک شخص کا عذر ہو اور وہ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکتا ہو تو اس کے بارے میں اسی قسم کے احتمال کو فرض کرکے یہ کہا جائے کہ ”اسے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت نہ دی جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ آئندہ اسے عذر نہ ہو اور پھر بھی یہ نماز گھر میں پڑھے لگ جائے“ لہذا اس بنیاد پر جمعہ کی اجازت نہ دینا درست معلوم نہیں ہوتا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved