• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

میاں بیوی کی وفات سے متعلق چند مسائل کا حکم نکاح، غسل دینے اور چہرہ دیکھنے کا حکم

استفتاء

امید کرتا ہوں کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔میں چند سوالات میں الجھا ہوا ہوں۔ مہربانی فرما کر رہنمائی فرما دیں!

1:      کیا  مرنے کے بعد نکاح ختم ہو جاتا ہے؟ اگر ہاں تو  کیسے؟

2:      میاں بیوی میں سے کوئی مر جائے تو کیا  میاں اپنی بیوی کو اور بیوی اپنے میاں کو غسل دے سکتے ہیں یا نہیں؟

3:      مرنے کے بعد شوہر اپنی بیوی کے چہرہ کو دیکھ سکتا ہے یا نہیں؟ اور قبر میں بھی رکھ سکتا ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

بالترتیب جوابات ملاحظہ کریں!

[۱]:          اگر خاوند فوت ہو جائے تو عدت وفات (حاملہ ہونے کی صورت میں وضعِ حمل اور غیر حاملہ ہونے کی صورت میں چار ماہ دس دن) پوری ہونے تک نکاح باقی رہتا ہے۔ اسی لئے کہ عدتِ وفات کے دوران عورت کے لیے کسی دوسری جگہ نکاح کرنا جائز نہیں ہوتا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ﴾

                                                                    (سورۃ البقرۃ: 235)

ترجمہ: اور (عدت کے دوران) عقدِ نکاح کو پختہ نہ کرو یہاں تک کہ  عدت مکمل ہو جائے۔

جب عدت کے دوران کسی دوسری جگہ نکاح کی بات پکی کرنا جائز نہیں تو خود نکاح کرنا بدرجہ اولیٰ جائز نہ ہو گا۔

اگر بیوی فوت ہو جائے تو نکاح فوراً ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ دو بہنوں سے بیک وقت نکاح کرنا حرام ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ﴾

(سورۃ النساء: 23)

ترجمہ:  دو بہنوں سے نکاح کرنا تمہارے لیے حرام قرار دیا گیا ہے۔

اگر بیوی فوت ہو جائے تو خاوند اس کی وفات کے فوراً بعد بیوی کی بہن سے نکاح کر سکتا ہے۔ یہ دلیل ہے کہ بیوی کا نکاح وفات کی وجہ سے ختم ہو گیا ہے ورنہ لازم آتا کہ ایک بہن سے نکاح کے ہوتے ہوئے دوسری بہن سے نکاح کر لیا گیا ہے۔

امام ابو بكر عبد الرزاق بن ہمام بن نافع الحمیری الصنعانی (ت211ھ)   امام سفیان بن سعید الثوری  (ت161ھ)   سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:

“لَا يُغَسِّلُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ  لِأَنَّهَا لَوْ شَاءَ تَزَوَّجَ أُخْتَهَا حِينَ مَاتَتْ.” وَنَقُولُ: “تُغَسِّلُ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا؛ لِأَنَّهَا فِي عِدَّةٍ مِنْهُ”.

(مصنف عبد الرزاق: ج3 ص256 رقم الحدیث 6145)

ترجمہ: ہمارا موقف یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو غسل نہیں دے سکتا کیونکہ بیوی کے مرنے کے بعد  جس وقت چاہے اس کی بہن سے نکاح کر سکتا ہے(جو کہ نکاح کے ختم ہونے کی دلیل ہے)۔ نیز ہمارا موقف یہ بھی ہے کہ عورت اپنے خاوند کو غسل دے سکتی ہے کیونکہ یہ اس کی عدت میں ہے۔ (جو بقائے نکاح کی دلیل ہے)

[۲]:          (اول) اگر بیوی فوت ہو جائے تو خاوند اسے غسل نہیں دے سکتا

(ثانی) اگر خاوند فوت ہو جائے تو بیوی اسے غسل دے سکتی ہے۔

وجہ اس کی یہی ہے کہ خاوند کی وفات کی صورت میں نکاح؛ عدت کی صورت میں باقی رہتا ہے اس لیے بیوی؛ خاوند کو  غسل دے سکتی ہے جبکہ بیوی کی وفات کی صورت میں چونکہ نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور بیوی اجنبی بن جاتی ہے اس لیے خاوند اسے غسل نہیں دے سکتا۔

ہر شق کی دلیل ملاحظہ ہو:

شق اول کے دلائل:

(1)      عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ: “لَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الْأَمْرِ ‏‏‏‏‏‏مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ نِسَائِهِ”.

(سنن ابن ماجۃ : رقم الحدیث   1464)

ترجمہ: ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر مجھے اپنی اس بات کا علم پہلے ہی ہو گیا ہوتا جو بعد میں ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی بیویاں ہی غسل دیتیں۔

(2، 3)          امام ابو عمر یوسف بن عبد الله ابن عبد البر القرطبی المالكی (ت463ھ) لکھتے ہیں:

وغسلت أسماء بنت عميس زوجها أبا بكر بمحضر جلة من الصحابة وكذلك غسلت أبا موسى امرأته.

(التمہید لابن عبد البر: ج1 ص380)

ترجمہ: حضرت اسماء بنت عمیس نے اپنے خاوند حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بڑے بڑے صحابہ کی موجودگی میں غسل دیا تھا۔ اسی طرح حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو ان کی بیوی نے غسل دیا تھا۔

شق ثانی کی دلیل:

علامہ محمد امین بن عمر بن عبد العزیز ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:

وَالنِّكَاحُ بَعْدَ الْمَوْتِ بَاقٍ إلٰى أَنْ تَنْقَضِيَ الْعِدَّةُ بِخِلَافِ مَا إذَا مَاتَتْ فَلَا يُغَسِّلُهَا لِانْتِهَاءِ مِلْكِ النِّكَاحِ لِعَدَمِ الْمَحَلِّ فَصَارَ أَجْنَبِيًّا.

(رد المحتار لابن عابدین: ج3 ص91  باب صلاة الجنازة)

ترجمہ: خاوند کی وفات کے بعد عدت گزرنے تک نکاح باقی رہتا ہے بخلاف اس صورت کے کہ جب  بیوی کا انتقال ہو جائے تو اس صورت میں خاوند اسے غسل نہیں دے سکتا کیونکہ نکاح  اختتام  پذیر ہو چکا ہے، اس لیے یہ شخص (اس عورت کے حق میں) اجنبی بن چکا ہے۔

فائدہ:

بعض لوگ دو روایتیں پیش کر کے کہتے ہیں کہ خاوند اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے۔ ان روایتوں کا صحیح مفہوم پیش کیا جاتا ہے۔

روایت نمبر1:  عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَقِيعِ فَوَجَدَنِي وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي وَأَنَا أَقُولُ وَا رَأْسَاهُ فَقَالَ بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ وَا رَأْسَاهُ ثُمَّ قَالَ مَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي فَقُمْتُ عَلَيْكِ فَغَسَّلْتُكِ وَكَفَّنْتُكِ وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ وَدَفَنْتُكِ.

(سنن ابن ماجۃ: رقم الحدیث 1465)

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع (قبرستان) سے واپس آئے، تو مجھے درد ِ سر میں مبتلا پایا، میں شدت درد سے کہہ رہی تھی: ”ہائے میرا سر!!“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں عائشہ ! میں کہتا ہوں: میرا سر!! [مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بھی ناساز تھی اور یہ واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے انتہائی آخری ایام میں ہوا تھا اور اس کے فوراً بعد آپ کو مرض الموت لاحق ہوگیا تھا۔] پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اگر تم مجھ سے پہلے فوت ہوجاؤ تو تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا کیونکہ میں ہی تمہیں غسل دوں گا، کفن پہناؤں گا اور جنازہ پڑھ کر دفن کروں گا۔

صحیح مفہوم:

(1):   ”فَغَسَّلْتُكِ“  سے مراد غسل کا انتظام کرنے کی ذمہ داری لینا ہے یعنی اے عائشہ! میں تمہارے غسل کا انتظام  کروں گا۔ اس سے  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بنفسِ نفیس خود غسل دینا مراد نہیں ہے۔

امام جمال الدین ابو محمد عبد الله بن یوسف بن محمد الزیلعی الحنفی (ت 762ھ) لکھتے ہیں:

وَهٰذَا لَيْسَ فِيهِ حُجَّةٌ  فَإِنَّ هٰذَا اللَّفْظَ لَا يَقْتَضِي الْمُبَاشَرَةَ  فَقَدْ يَأْمُرُ بِغُسْلِهَا.

(نصب الرایۃ فی تخریج احادیث الہدایۃ: ج2 ص259 باب الجنائز)

ترجمہ:اس روایت میں بذات خود غسل دینے کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ ”فَغَسَّلْتُكِ“ کا معنی خود غسل دینا نہیں بلکہ اس کا معنی ہے کہ ان کے غسل کا حکم فرماتے (یعنی انتظام و انصرام فرماتے)

اس معنی کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کسی میت کو غسل نہیں دیا کرتے تھے۔

(2):   اگر بالفرض حقیقۃً خود غسل دینا مراد ہو تو یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خصوصیت ہے۔ کیونکہ آپ کے نکاح میں آنے کے بعد امہات المؤمنین دنیا و آخرت میں آپ کی زوجات ہیں حتی کہ  ان میں سے کسی کی وفات ہو جائے تب بھی یہ  آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں ہوں گی۔  امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورۃ الترمذی (ت 279ھ)   حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کرتے ہیں:

عن عائشة رضی اللہ عنہا: أن جبريل علیہ السلام جاء بصورتها في خرقة حرير خضراء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال: إن هذه زوجتك في الدنيا والآخرة.

(سنن الترمذی: رقم الحدیث  3880)

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک ریشمی سبز کپڑے میں میری تصویر لپیٹ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لائے اور کہا: یہ دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہے۔

دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ  ان کی وفات کے بعد بھی ان کا نکاح صلی اللہ علیہ و سلم  کے ساتھ باقی ہے۔ تو جب آپ کا نکاح باقی ہے تو آپ کا غسل کی بات کرنا صحیح و درست ہوا اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ٹھہری۔ اسی خصوصیت کا تذکرہ کرتے ہوئے مفتی عزیز الرحمٰن رحمہ اللہ  (ت1347ھ) فرماتے ہیں:

”آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمانا  (کہ میں تمہیں غسل دوں گا) آپ کی خصوصیات میں سے ہے“

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند: ج5 ص178)

چونکہ بیوی کی وفات کے بعد اسے غسل دینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی  اس لیے کسی دوسرے کو اس پر قیاس کرنا درست نہیں ہے۔

روایت نمبر2:

عَنْ أُمِّ جَعْفَرٍ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : يَا أَسْمَاءُ! إِذَا أَنَا مِتُّ فَاغْسِلِينِىْ أَنْتِ وَعَلِىُّ بْنُ أَبِىْ طَالِبٍ فَغَسَّلَهَا عَلِىٌّ وَأَسْمَاءُ رَضِىَ اللّهُ عَنْهُمَا.

(السنن الکبریٰ للبیہقی:  ج3  ص396  رقم الحدیث 6905)

ترجمہ: ام جعفر سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا  نے حضرت اسماء کو فرمایا: جب میری وفات ہو جائے تو مجھے تم اور حضرت علی غسل دینا۔ چنانچہ (ان کی وفات کے بعد) حضرت علی  اور حضرت اسماء رضی اللہ عنہما نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غسل دیا۔

صحیح مفہوم:

(1):   حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غسل دینے والوں میں حضرت اسماء بنت عمیس زوجہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہما، حضرت علی رضی اللہ عنہ  (السنن الکبریٰ للبیہقی:  ج3 ص396 رقم الحدیث 6905)، حضرت سلمیٰ زوجہ حضرت ابو  رافع رضی اللہ عنہما   (البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر: ج6 ص366، اسد الغابۃ لابن الاثیر:  ج5 ص466 رقم الترجمۃ 7011) اور حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا (رد المحتار مع الدر المختار: ج6 ص243)  کے نام ملتے ہیں۔

جن روایات  میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا غسل دینا منقول ہے ان روایات کا مطلب محققین علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل کے سامان کا انتظام کیا تھا۔ مثلاً پانی بھر دینا، کفن کا انتظام کرنا وغیرہ۔ اس لیے غسل کی نسبت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف مجازاً ہے، حقیقتاً غسل حضرت ام ایمن اور ان کے ساتھ دیگر خواتین نے ہی دیا تھا۔  علامہ محمد امین بن عمر بن عبد العزیز بن احمد ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:

فَاطِمَةُ رَضِيَ اللّهُ تَعَالٰى عَنْهَا غَسَّلَتْهَا أُمُّ أَيْمَنَ حَاضِنَتُهُ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا فَتُحْمَلُ رِوَايَةُ الْغُسْلِ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللّهُ تَعَالٰى عَنْهُ عَلٰى مَعْنَى التَّهْيِئَةِ وَالْقِيَامِ التَّامِّ بِأَسْبَابِهٖ.

(رد المحتار لابن عابدین الشامی: ج6 ص243)

ترجمہ: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اَنّا (پرورش کرنے والی خاتون) حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا(اور دیگر عورتوں) نے دیا تھا۔ لہذا جس روایت میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل دیا تھا اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے غسل دینے میں تعاون کیا تھا مثلاً سامان غسل کا انتظام وغیرہ  انہوں نے کیا تھا۔

(2):   اگر خاوند کا اپنی بیوی کو غسل دینا درست ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر بیٹیاں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں فوت ہوئیں انہیں ان کے شوہر غسل دیتے لیکن ان کا غسل دینا منقول نہیں۔

امام ابو عمر یوسف بن عبد الله ابن عبد البر القرطبی المالكی (ت463ھ) فرماتے ہیں:

أن بنات رسول الله اللواتي توفين في حياته؛ زينب ورقية وأم كلثوم ولم يبلغنا أن إحداهن غسلها زوجها.

(التمہید لابن عبد البر: ج1 ص380)

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صاحبزادیاں؛ حضرت زینب، حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہن جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات ہی میں فوت ہوئیں، ان میں سے کسی کے بارے میں ہمیں  یہ بات نہیں پہنچی کہ ان کو ان کے خاندوں نے غسل دیا ہو۔

اس سے معلوم ہوا کہ غسل دینے کی نسبت سے مراد انتظاماتِ غسل کرنا ہے نہ کہ حقیقۃً غسل دینا،  کیوں کہ یہ معمول نہیں تھا۔

[۳]:          خاوند اپنی بیوی کا چہرہ دیکھ سکتا ہے البتہ چھو نہیں سکتا۔ اسی طرح قبر میں اتارنے کے لیے عورت کا کوئی محرم نہ ہو تو خاوند اسے قبر میں بھی اتار سکتا ہے لیکن جسم کو چھو نہیں سکتا۔

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی  الحنفی(ت1088ھ) لکھتے ہیں:

وَيُمْنَعُ زَوْجُهَا مِنْ غُسْلِهَا وَمَسِّهَا لَا مِنَ النَّظَرِ إلَيْهَا عَلَى الْأَصَحِّ․

(الدر المختار للحصکفی: ج3 ص105 کتاب الصلاۃ باب صلاۃ الجنازۃ)

ترجمہ: بیوی کے مرنے پر خاوند کا اسے غسل دینا اور چھونا تو ممنوع ہے البتہ صحیح قول کے مطابق خاوند اپنی مرحومہ بیوی  کے چہرے کو دیکھ سکتا ہے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved