- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
مرزائیوں کے ایک اعتراض کا جواب مطلوب ہے۔ اعتراض یہ ہے کہ مسجدِ اقصٰی میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت کروائی تھی اس میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بھی آئے تھے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام جسمِ مثالی کے ساتھ آئے تھے یا جسمِ حقیقی کے ساتھ؟ اگر جسمِ مثالی میں روح ڈالی گئی تھی تو موت ثابت ہو جاتی ہے اور اگر جسمِ حقیقی کے ساتھ آئے تھے تو نزول ثابت ہو جاتا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد جسمِ مثالی کے ساتھ نہیں تھی (اس لیے وفاتِ مسیح علیہ السلام کا عقیدہ تو باطل ٹھہرا) بلکہ آپ علیہ السلام کی آمد جسمِ حقیقی کے ساتھ تھی۔ جسمِ حقیقی کے ساتھ آمد سے نزولِ مسیح بھی متحقق نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اہل اسلام اس بات کے قائل ہیں کہ نزول عیسی علیہ السلام قربِ قیامت میں ہوگا۔ اس وقت حضرت مہدی پیدا ہو چکے ہوں گے اور دجال کا خروج بھی ہو چکا ہو گا۔ اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دمشق کی جامع مسجد کے مینارہ پر ہو گا۔ نزول کے بعد آپ علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے۔ نزول کے بعد آپ چالیس یا پینتالیس سال زمین میں قیام فرما کر مدینہ منورہ میں انتقال فرمائیں گے۔
تو اہلِ اسلام جس نزول کے قائل ہیں وہ یہ ہے۔ معراج کے موقع پر بیت المقدس میں آمد کے وقت مذکورہ امور وقوع پذیر ہی نہیں ہوئے تھے اس لیے اسے ”نزولِ مسیح“ بالکل قرار نہیں دیا جا سکتا۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved