- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ہمارے ماحول میں ایک چیز بہت دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ وہ یہ کہ اگر کوئی شخص مر جائے تو لوگ عام طور پر میت کے چہرے کو دیکھ کر ہی فیصلہ کر لیتے ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی۔ اور دوسری چیز یہ ہے کہ لوگ وفات کے دن یا مہینا کو دیکھ کر یہ کہتے ہیں کہ یہ مرنے والا شخص بلا حساب جنت میں جائے گا۔
میرا سوال یہ ہوا کہ کیا میت کے چہرے کو دیکھ کر یا وفات کے دن کو دیکھ کر کسی کے جنتی یا جہنمی ہونے کا فیصلہ کرنا شرعاً کیسا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
قرآنِ کریم اور احادیث مبارکہ میں جنت میں داخل ہونے کا مدار ایمان اور نیک اعمال کو قرار دیا گیا ہے ، ایمان کے بغیر جنت میں داخلہ ناممکن ہے۔ ایمان کے ساتھ اعمالِ صالحہ بھی موجود ہوں تو اس سے جنت کا دخول اوّلی نصیب ہوتا ہے کہ ایسا خوش بخت انسان موت کا ذائقہ چکھتے ہی جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ اگر ایمان کے ساتھ اعمالِ صالحہ نہ ہوں تو جنت میں دخول ثانوی ہوتا ہے، مطلب کہ انسان اپنے بُرے اعمال کی سزا بھگت کر جنت میں داخل ہو گا۔ لیکن یہ بات طَے ہے کہ جنت میں دخول اوّلی ہو یا ثانوی، یہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور لطف و عنایت کی وجہ سے ہوتا ہے۔اس لیے کسی فوت شدہ مسلمان کے حق میں نیک فالی کے طور پر یہ کہنا تو جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل سے امید ہے کہ اسے جنت میں داخل فرمائیں گےلیکن قطعی اور یقینی طور پر جنتی یا جہنمی ہونے کا فیصلہ کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔ اس معاملے کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ چہرہ کی رنگت کو جنت میں جانے یا نہ جانے کا معیار نہیں بنایا جا سکتا ، اگر اس کو معیار بنایا جائے تو لازم آئے گا کہ ہر سفیدرو جنتی اور ہر سیاہ رو جہنمی ہے ، یہ بات نقلاً اور عقلاً دونوں طرح باطل ہے۔ اس لیے نیک اعمال پہ توجہ دینی چاہیے ، اللہ تعالیٰ کو اخلاص کے ساتھ کیا جانے والا نیک عمل پسند ہے، اللہ تعالیٰ رنگت اور شکل و صورت کی طرف التفات نہیں فرماتے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلٰى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَلٰكِنْ يَّنْظُرُ إِلٰى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ۔ “(صحیح المسلم: حدیث نمبر2564)ترجمہ:“اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور اَموال کی طرف نظر نہیں فرماتے بلکہ تمہارے دِلوں اور اَعمال کو دیکھتے ہیں۔” آپ کے علاقے میں جو رسمِ بد ہے اسے ختم کرنا ضروری ہے، ورنہ اندیشہ ہے کہ لوگ اپنے طرف داروں کو جنتی اور مخالفین کو جہنمی کہنا شروع کر دیں گے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاء مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved