- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
گٹھنے سے نیچے کسی کی ٹانگ کٹ گئی اور اسے مصنوعی ٹانگ لگائی گئی، تو اب اسے وضو اور غسل میں دھونے کا کیا حکم ہے؟ کیوں کہ اس ٹانگ کو بار بار اتارنے سے کافی دقت ہوتی ہے اور زخم میں بھی بہت درد ہوتا ہے۔ براہِ کرم راہنمائی فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
گٹھنے سے نیچے جن کی ٹانگ مصنوعی لگی ہے ان کے لیے وضو میں مصنوعی ٹانگ کو دھونا اور اس پر مسح کرنا ضروری نہیں۔ البتہ فرض غسل میں اگر بہ آسانی ٹانگ اتر جائے تو اسے اتار کر اصل حصے تک پانی پہنچانا ضروری ہو گا۔ ہاں اگر مصنوعی عضو کا بہ آسانی اتارنا ممکن نہ ہوکہ ازخود اتارنے سے شدید تکلیف ہوتی ہو یا از خود بہ سہولت اتارنا ممکن تو ہو مگر اس کے نیچے اصل حصے پر زخم ہو اور پانی لگنے سے زخم کے بگڑنے کا اندیشہ ہو تو ان صورتوں میں اصل حصے تک پانی پہنچانا لازم نہیں ہو گا۔نوٹ: اگر پاؤں ٹخنے سے نیچے یا بازو کہنی سے نیچے کٹا ہو اور مصنوعی لگے ہوں ، اس صورت میں انہیں وضو میں دھونے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر آسانی اتارنا ممکن ہو تو اتار کر اصل حصے تک پانی پہنچانا ضروری ہو گا، اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو دھونا ضروری نہیں ہو گا بلکہ مسح کرنا(گیلا ہاتھ پھیرنا) کافی ہو گا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved