- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک جگہ مسجد کے لیے وقف تھی ، اس میں سے آدھی جگہ میں مسجد اور مدرسہ بنا ہوا ہے اور آدھی جگہ خالی پڑی تھی جو مسجد کی ذاتی ضرورت سے زائد تھی۔ اس زائد حصہ میں اہل علاقہ نے ضرورت کی بناء پر جنازہ گاہ بنا لی ہے۔ اب دو باتیں دریافت طلب ہیں:
(1) اس وقف کی جگہ پر جنازہ گاہ بنانا جائز تھا یا نہیں ؟
(2) اگر جائز نہیں تو پھر جو نماز جنازہ وہاں ادا کی گئی ہیں ان کا کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ایسی جگہ جو مسجد کے منافع کے لیے وقف ہو اور خالی پڑی ہو اس کو جنازہ گاہ کے طور پر مختص کر لینا جائز نہیں ہے۔ اس لیے اہلِ علاقہ کو چاہیے تھا کہ وہ جنازہ گاہ تعمیر نہ کرتے بلکہ عارضی طور پر کبھی کبھی وہاں جنازہ پڑھ لیتے تو اس کی گنجائش تھی۔
تاہم اب علاقہ کی ضرورت کے پیشِ نظر اس جنازہ گاہ کو ختم نہ کریں، بلکہ ایسا کریں اس جنازہ گاہ کا ماہانہ یا سالانہ معقول معاوضہ طے کر لیا جائے تاکہ جنازہ گاہ کی ضرورت بھی پوری ہوتی رہے اور کرایہ کی مد میں ملنے والی رقم بھی مسجد کے منافع اور ضروریات میں استعمال ہوتی رہے۔
(2) اب تک جو نمازِ جنازہ ادا ہوتی رہی ہیں وہ درست شمار ہوں گی۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved