- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک مسئلہ پوچھنا تھا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کوتین طلاق دی بعد میں احساس ہوا ایک چھوٹا بچہ بھی ہے اس لیے گھر کی بات باہر نہ نکلے تو عدت پوری ہونے کے بعد اپنے چچا زاد بھائی سے اس شرط پر نکاح کروا دیا کہ ایک رات جماع کرنے کے بعد طلاق دے دے گا اور اس کے چچا زاد بھائی نے نکاح اور جماع(ملاپ) کرنے کے بعد پھر طلاق دے دی اب عدت گزرنے کے بعد پہلا خاوند دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہے، کیا اس کے لیےاس طرح نکاح کرنا صحیح ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
تین طلاق کی عدت گزرنے کے بعد دوسرے خاوند سے نکاح کرتے وقت اگر یہ شرط لگادی گئی کہ وہ صحبت کرنے کے بعد چھوڑ دے گا تو اس شرط و اقرار کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ۔اب اس کی مرضی ہے چھوڑے یا ساتھ رکھے یا جب جی چاہے چھوڑے ۔ لیکن یاد رہے کہ اس طرح مشروط طریقے سے نکاح کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے طریقہ سے نکاح کرنے والوں پہ لعنت فرمائی ہے۔ مگر اس مشروط نکاح کے باوجود دوسرے خاوند نے صحبت کرکے طلاق دے دی یا فوت ہوگیا تو عدت کے بعد پہلے خاوند کےلیے عورت بہر حال حلال ہوجائے گی۔ہاں اگر دوسرے شوہر سے نکاح کرتے وقت طلاق کی شرط نہ لگائی ہو لیکن اس کے جی میں ہو کہ میں صحبت کے بعد طلاق دے دوں گا تو یہ صورت اس لعنت والی وعید میں داخل نہیں ہے۔مفتی اعظم ہند حضرت اقدس مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:حدیث “لَعَنَ اللّٰہُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَہٗ”(اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے حلال کرنے والے پر اور اس شخص پر بھی جس کے لیے عورت حلال کی گئی ہے) کا محمل وہ صورت ہے جب کہ حلالہ پر اجرت طے کر لی جائے یا طلاق دینے کو شرط کر لیا جائے، اگر طلاق کو شرط نہ ٹھہرائے اور نہ ہی اجرت طے ہو بلکہ اپنے جی میں رکھے کہ ایک دو روز رکھ کر طلاق دے دوں گا، تاکہ بے چارے زوج اوّل کا گھر ویران نہ ہو، بچے ضائع نہ ہوں تو یہ جائز ہی نہیں بلکہ اس پر اجر ملتا ہے۔(ملفوظاتِ فقیہ الامت: ج 1 ص 14)واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved