- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
سوال یہ ہے کہ نماز شروع ہو جائے ، اگر کوئی بندہ دوسری یا تیسری رکعت میں شامل ہوتا ہے تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد ایک رکعت یا دو رکعتیں جو وہ خود پڑھے گا تو اس میں سورت فاتحہ کے ساتھ دوسری کوئی سورت ملائے گا یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ایسا نمازی جس کی ایک یا چند رکعتیں جماعت سے رہ گئی ہوں اسے ”مسبوق“کہا جاتا ہے۔ مسبوق شخص کچھ رکعتیں امام کے ساتھ پڑھ چکا ہوتا ہے اور بقیہ رکعتیں امام کے سلام پھیرنے کے بعد ادا کرتا ہے۔ مسبوق کی نماز کے بارے میں اصول یہ ہے کہ اس کی وہ رکعتیں جو امام کے ساتھ ادا ہو چکی ہوں وہ تشہد کے اعتبار سےاول ( ابتدائی) اور قرأت کے اعتبار سے آخر (انتہائی) شمار ہوتی ہیں، اور وہ رکعتیں جو وہ امام کے سلام کے بعد ادا کرے گا وہ قرأت کے اعتبار سےاول ( ابتدائی) اور تشہد کے اعتبار سے آخر (انتہائی) شمار ہوتی ہیں۔
اس اصول کے مطابق اب سمجھیے کہ اگر مسبوق کی ایک یا دو رکعتیں رہ گئی ہوں تو امام کے سلام کے بعد بقیہ رکعتوں میں سورۃ فاتحہ کے بعد دوسری کسی اور سورت کا پڑھنا بھی اس پر لازم ہو گا۔ اگر مسبوق کی تین یا چار رکعتیں رہ جائیں، یعنی وہ آخری قعدہ میں امام کےساتھ شامل ہوا ہو تو اس صورت میں امام کے سلام کے بعد پہلی دو رکعتوں میں وہ مکمل قرأت کرے گا یعنی سورۃ فاتحہ اور اس کے بعد دوسری سورت کا پڑھنا بھی اس پر لازم ہو گالیکن اس کے بعد والی رکعتوں(تیسری اور چوتھی رکعت) میں صرف سورۃ فاتحہ کا پڑھ لینا کافی ہو گا، اس کے ساتھ کوئی اور سورت نہیں ملائے گا۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved