- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک معتکف جوکہ مسائل اعتکاف سے بالکل نا واقف ہے اگر وہ مسجد کی حدود سے بلا کسی ضرورتِ شدیدہ نکل گیا تو اس کا اعتکاف باقی رہے گا یا فاسد ہو جائے گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مسائل سے ناواقف ہونے کا عذر قابلِ قبول نہیں۔ اس لیے ایسے شخص کا اعتکاف بلا کسی ضرورت شرعی کے مسجد سے نکل جانے کی وجہ سے ٹوٹ چکا ہے۔ اس شخص پر ایک دن رات کے اعتکاف کی قضا کرنا لازم ہے۔ قضاء کا طریقہ یہ ہے کہ یہ شخص کسی دن غروبِ آفتاب سے پہلے پہلے اعتکاف کی نیت کے ساتھ مسجد میں چلا جائے۔ اس دن کی مغرب سے اگلے دن مغرب تک اعتکاف کی پابندی کرے۔ اگلے دن کا روزہ بھی رکھے۔ اگلے دن مغرب تک اس کے اعتکاف کی قضاء مکمل ہو جائے گی۔
نوٹ: اعتکاف کی قضاء میں بھی چونکہ روزہ رکھنا ضروری ہوتا ہے اس لیے ان دنوں میں اعتکاف کی قضاء نہ کی جائے جن میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہوتا۔ وہ دن پانچ ہیں: عید الفطر، عید الاضحیٰ اور عید الاضحیٰ کے بعد تین دن۔ ان کے علاوہ کسی دن بھی قضاء کر سکتے ہیں۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved