• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

مروّجہ طریقے سے فاتحہ پڑھنے کی اجازت کیوں نہیں؟

استفتاء

بدعتیوں کا کہنا ہے کہ ہم فاتحہ خوانی میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھتے ہیں کوئی اور تو نہیں پڑھتے ہیں پھر ہمیں غلط کیوں کہا جاتاہے؟ پڑھنے کی اجازت کیوں نہیں دیتے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ہم مسلمان بنیادی طور پر دو باتوں کے پابند ہیں، ایک اس بات کے کہ عمل اچھا کریں، دوسرا یہ کہ اس عمل کو سرانجام دینے کا صحیح طریقہ اختیار کریں۔ اگر عمل اچھا نہ ہو تب بھی غلط ہے، اسی طرح اگر عمل بظاہر ٹھیک ہو مگر طریقہ درست نہ ہو تب بھی غلط ہے۔ آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیجیے کہ ہم مسلمان احکامِ خداکو طریقۂ ِ مصطفیٰ کے مطابق بجا لانے کے پابند ہیں، اس لیے ہمیں کوئی بھی ایسا عمل کرنے کی شرعاً اجازت نہیں جو دین سے ثابت نہ ہو، یا وہ عمل ذاتی طور پر ثابت ہو مگر اسے سرانجام دینے کا طریقہ سنت سے ثابت نہ ہو بلکہ ہمارا اپنا ہو۔صرف یہ دیکھ لینا کافی نہیں کہ بس وہ کام تو ٹھیک ہے، جیسے چاہو مرضی کرو، بلکہ اس کے ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے اس کا طریقہ درست ہے یا نہیں۔دیکھیے کلمہ پڑھنا کس قدر مبارک عمل ہے، صدقِ دل سے ایک بار کوئی کافر پڑھ لے تو اس کی زندگی کے تمام گناہ بھاپ بن کر اڑ جاتے ہیں، اب اگر اس فضیلت کو سامنے رکھ کر کوئی بندہ اذان و اقامت کے آخر میں “لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ “ کے بعد “مُحَمَّد رَّسُولُ اللہِ” پڑھنا شروع کر دے اور دلیل یہ پیش کرے کہ یہ کلمہ تو ادھورا تھا میں نے اسے مکمل کر دیا، مزید یہ کہ میرے دل میں عشقِ خدا بھی ہے اور عشقِ مصطفیٰ بھی ہے، میں یہ گوارا نہیں کر سکتا کہ ذکرِ خدا تو ہو مگر ساتھ ذکرِ مصطفیٰ نہ ہو، اس لیے میں اذان و اقامت میں “لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ “ کے بعد “مُحَمَّد رَّسُولُ اللہِ” بھی ضرور پڑھا کروں گا، بھلا اس میں حرج ہی کیا ہے، میں نے ایک اچھے جملے کا اضافہ کیا ہے کوئی گستاخانہ جملہ تو نہیں پڑھا ۔ اسی طرح درودِ پاک پڑھنا کس قدر برکت و عظمت والا عمل ہے، اگر اس بناء پر کوئی بندہ نماز میں فاتحہ سے پہلے یہ پڑھنا شروع کر دے اور کہے بھلا اس میں حرج ہی کیا ہے، میں نے درودِ پاک ہی پڑھا ہے ، معاذ اللہ کوئی کفریہ عبارت تو نہیں پڑھی۔ تو بتلائیے اس شخص کی یہ دلیل شرعاً کس حد تک معتبر ہو گی اور کیا کوئی ذی شعور انسان اس دلیل کو مان کر اذان و اقامت اور نماز میں یہ اضافہ برداشت کر لے گا اور اسے ایسا کرنے کی اجازت دے دے گا؟اس لیے یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے کہ اپنی طرف سے کسی کام کو دین کا حصہ بنا کر لازمی قرار دینا بدعت کہلاتا ہے اس لیے اس سے بچنا ضروری ہے۔ فاتحہ ، کلمہ، اذان، درودِ پاک پڑھنے اور ذکر کرنے سے کوئی بھی منع نہیں کرتا، یہ نیک اعمال شوق سے کیے جائیں اور بہت زیادہ کرنے چاہییں ، لیکن شریعت مبارکہ کی حدود و قیودسے تجاوز نہ کیا جائے ۔ اور ہر کام میں اس چیز کو ضرور ملحوظ رکھا جائے کہ ہمارا ہر عمل سنت کے مطابق ہو اپنی مرضی اور چاہت کے مطابق نہ ہو۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved