• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

منگنی کے بعدزنا، اس کے بعد نکاح اور پیدا ہونے والے بچے کا حکم

استفتاء

ایک شخص کی ایک عورت سے منگنی ہوئی۔ منگنی کے بعد ان دونوں نے زنا کیا جس کے نتیجے میں عورت حاملہ ہوئی۔ بعد میں ان دونوں نے نکاح کیا اور خاوند نے اس عورت کو طلاق بھی دے دی۔ اس عورت کو بچہ پیدا ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بچے کو وراثت میں حصہ ملے گا یا نہیں؟ اگرچہ بعد میں نکاح ہوا ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

[۱]:    نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی  ہوتے ہیں۔ ان کا آپس میں گفتگو کرنا، ملنا حتیٰ کہ زنا کا ارتکاب کرنا حرام، ناجائزا ور گناہِ کبیرہ ہے۔ سوال میں مذکور لڑکا اور لڑکی دونوں زنا جیسے حرام فعل کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اس لیے اولاً تو دونوں  پر توبہ و استغفار لازم ہے۔

[۲]:    حمل سے پیدا ہونے والے اس بچے کے نسب اور وراثت کے احکام میں کچھ تفصیل ہے:

اس حمل سے بچہ کی پیدائش اگر نکاح کے چھ ماہ بعد ہوئی ہو تو اس بچے کا نسب اس شخص سے ثابت ہو جائے گا اور یہ بچہ اس شخص کی میراث کا وارث قرار پائے گا۔

اگر یہ بچہ نکاح کے بعد چھے ماہ گزرنے سے پہلے پیدا ہوا تو دیکھا جائے کہ زانی اگر اس بچے کے باپ ہونے کا اقرار کرتا ہے لیکن زنا کا تذکرہ نہیں کرتا تو اس صورت میں بھی بچے کا نسب اس شخص سے ثابت ہو جائے گا اور وراثت کے مذکورہ احکام بھی ہوں گےلیکن اگر یہ شخص اس بچے کا باپ ہونے کا اقرار کرتا ہے اور زنا کا تذکرہ بھی کرتا ہے تو اس صورت میں بچے کا نسب اس شخص سے ثابت نہیں ہو گا اور نہ ہی وراثت کے احکام جاری ہوں گے۔

 

علامہ محمد امین بن عمر بن عبد العزیز بن احمد ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:

(قَوْلُهُ : وَالْوَلَدُ لَهُ) إنْ جَاءَتْ بَعْدَ النِّكَاحِ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ مُخْتَارَاتُ النَّوَازِلِ ، فَلَوْ لِأَقَلَّ مِنْ سِتَّةِ أَشْهُرٍ مِنْ وَقْتِ النِّكَاحِ ، لَا يَثْبُتُ النَّسَبُ ، وَلَا يَرِثُ مِنْهُ إلَّا أَنْ يَقُولَ هَذَا الْوَلَدُ مِنِّي ، وَلَا يَقُولُ مِنَ الزِّنَى … إِنَّمَا يَثْبُتُ لَوْ لَمْ يُصَرِّحْ لِاحْتِمَالِ كَوْنِهِ بِعَقْدٍ سَابِقٍ أَوْ بِشُبْهَةٍ حَمْلًا لِحَالِ الْمُسْلِمِ عَلَى الصَّلَاحِ ، وَكَذَا ثُبُوتُهُ مُطْلَقًا إذَا جَاءَتْ بِهِ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ مِنَ النِّكَاحِ لِاحْتِمَالِ عُلُوقِهِ بَعْدَ الْعَقْدِ ، وَأَنَّ مَا قَبْلَ الْعَقْدِ كَانَ انْتِفَاخًا لَا حَمْلًا وَيُحْتَاطُ فِي إثْبَاتِ النَّسَبِ مَا أَمْكَنَ .

                                    (رد المحتار مع الدر المختار: ج 4 ص139)

ترجمہ: پیدا ہونے والا بچہ اس زانی شخص کا ہو گا بشرطیکہ یہ بچہ عورت کو نکاح کے چھے ماہ بعد پیدا ہوا ہو جیسا کہ کتاب مختارات النوازل میں ہے، اور  اگر  نکاح کے بعد چھے ماہ سے پہلے بچہ پیدا ہوا تو اب اس کا نسب ثابت نہیں ہو گا اور نہ ہی یہ بچہ اس مرد کا وارث بنے گا۔ ہاں! اگر یہ شخص اقرار کرے کہ یہ میرا بیٹا ہے اور زنا کا تذکرہ نہ کرے تو نسب ثابت ہو جائے گا کیونکہ اس صورت میں یہ احتمال ہے کہ شاید اس مردو عورت نے پہلے (چھپ کر) نکاح کیا ہو یا یہ حمل  وطی بالشبہ کی وجہ سے قرار پایا ہو (کیونکہ وطی بالشبہ کی وجہ سے قرار پانے والے حمل کا نسب واطی سے ثابت ہو جاتا ہے)۔ تو ایک مسلمان کے احوال کو اچھائی پر محمول کرنا چاہیے۔  چھ ماہ بعد پیدا ہونے والے بچے کا نسب ثابت ہونے کی وجہ یہ ہے کہ عین ممکن ہے کہ حمل کا یہ لوتھڑا نکاح کے بعد ہی ہوا ہو،  نکاح سے پہلے (بظاہر )جو حمل لگ رہا تھا ممکن ہے کہ وہ حمل نہ ہو بلکہ نفخ (پیٹ کاپھولنا یا کوئی اور شئے)  ہو تو جتنا ممکن ہو نسب ثابت کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے (کہ بلاوجہ کسی کو غیر ثابت النسب نہیں کہنا چاہیے)

علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں:

لَوْ صَرَّحَ بِأَنَّهُ مِنَ الزِّنَى لَا يَثْبُتُ قَضَاءً أَيْضًا.

(رد المحتار مع الدر المختار: ج 4 ص139)

ترجمہ: (نکاح کے بعد چھے ماہ سے پہلے پیدا ہونے کی صورت میں) اگر اس شخص نے صراحت کر دی ہو کہ یہ بچہ زنا کی وجہ سے ہوا ہے تو اب اس کا نسب ثابت نہیں ہو گا۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved