- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ہمارے علاقہ کے کچھ لوگ ” من کنت مولاه فهذا علی مولاه “سے سیدنا علی رضی الله عنہ کی خلافت بلا فصل کو ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔
آپ سے پوچھنا تھا کہ :
1: اس حدیث کی سندی حیثیت کیا هے؟
2: یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کس موقع پر اور کیوں ارشاد فرمائی ؟
3: کیا اس حدیث سے خلافت بلا فصل سیدنا علی رضی الله عنہ ثابت ہوسکتی ہے؟
4: اگر ”مولی “ کے لفظ سے خلافت بلافصل ثابت نہیں ہوتی تو یہاں اس لفظ کا معنی کیا ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1: یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے ، بعض صحیح اور بعض حسن درجہ کے ہیں۔
2: حجۃ الوداع سے واپسی پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ”حجفہ“ کے قریب ایک تالاب کے کنارے درختوں کے سائے میں آپ صلی علیہ وسلم نے پڑاؤ ڈالا، یہ جگہ ”وادی خم“ اور ”غدیر خم“ کے نام سے معروف ہے، نماز کا اعلان کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر پڑھائی اور اس کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا۔ یہی خطبہ ”حدیث غدیر“ کے نام سے مشہور ہے۔
خطبہ دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم حجۃ الوداع کے موقعہ پر 4 ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ میں تشریف لائے، حرم مکہ پہنچ کر عمرہ کے ارکان ادا فرمائے، اور پھر چار دن تک مکہ میں قیام فرمایا، انہی چار دنوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ (جو رمضان 10ھ سے یمن تشریف لے گئے ہوئے تھے) واپس مکہ مکرمہ پہنچے اور وہ خمس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا جسے لانے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں یمن روانہ کیا تھا، اس سفر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعض ساتھیوں کو آپ رضی اللہ عنہ سے چند شکایتیں ہوگئی تھیں جن کا تذکرہ ان ساتھیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان شکایات کے ازالہ کے لیے یہ خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔
3: اس روایت سے حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل ثابت نہیں ہوتی ۔ اس لیے کہ:
[1]: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت اور موالاۃ کا اظہار محض اس لیے تھا کہ لوگوں کے دلوں میں ان کے بارے میں کوئی رنجش باقی نہ رہے، خلافت بلا فصل اور امامت کا اس میں کوئی تذکرہ نہیں۔
[2]: جس طرح کتب اھل السنت میں حدیث غدیر خم موجود ہے اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح اشارات بھی ہیں جن میں خلافت صدیق اکبر کا ذکر ہے یا خلفاء راشدین کی ترتیب کا ذکر ہے ۔
[3]: اگر یہ حدیث مسئلہ امامت یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بلا فصل کے متعلق ہوتی تو اس کا محل اور مقام حجۃ الوداع کا اجتماع تھا جہاں قرب و بعد تمام جگہوں کے مسلمان جمع تھے جو ایک عالمی اجتماع تھا، جس کا مقصد ایک عالمی نظریہ امت کو دینا تھا لیکن یہ حدیث خم کے تالاب کے پاس بیان ہوئی ہے جو اس بات کی یقینی دلیل ہے کہ اس سے مقصود آفاقی اور اجتماعی فیصلہ کا بیان کرنا مقصود نہیں تھا، بلکہ ایک وقتی ضرورت کا بیان کرنا تھا۔
[4]: اس حدیث مبارک میں ”مولی “کا لفظ دوست ،محبوب کے معنی میں ہے ۔اس پر قرینہ حدیث مبارک کا یہ جملہ ہے ” اللّٰهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ “
(مسند احمد: رقم الحدیث 18479)
ترجمہ: اے اللہ جو علی سے پیار کرے آپ بھی اس سے پیار فرمائیں اور جو حضرت علی سے عداوت رکھے آپ بھی اس سے عداوت رکھیں ۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved