• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

مالک اور قاضی کی تعبیر پر اشکال کا حل

استفتاء

امید ہے کہ مزاج عالی بخیر ہوں  گے۔

سوال یہ ہے کہ حضرت والا نے ﴿مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ﴾ کی تفسیر کرتے ہوئے ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ”قَاضِیْ يَوْمِ الدِّيْنِ“ نہیں کہااور پھر مالک اور قاضی کے درمیان فرق بتایا جو کہ پوسٹ کی صورت میں درج ذیل ہے:

اللہ رب العزت نے ﴿مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ﴾ فرمایا ہے،  ”قَاضِیْ يَوْمِ الدِّيْنِ“ نہیں فرمایا، اللہ قیامت کے دن فیصلہ فرمائیں گے ما لک بن کر، جج بن کر نہیں، کیونکہ جج کی عدالت کا ضابطہ اور ہوتا ہے اور مالک کی عدالت کا ضابطہ اور ہوتا ہے، جج قانون کا پابند ہوتاہے جبکہ ما لک قانون کا پابند نہیں ہوتا، اسی لیے اللہ پاک قیامت کو جو فیصلہ فرمائیں گے اس میں اللہ قانون کے پابند نہیں ہوں گے،  جی چاہے تو قانون دیکھیں اور سزادیں اور جی چاہے تو اپنے اختیارات دیکھیں اور بندے کو معاف فرما دیں!

سوال یہ ہے کہ دوسری جگہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں:

﴿إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ﴾

                                                                      (سورۃ یونس: 93 )

اس میں ”قاضی“ ہونا معلوم ہو رہا ہے۔ تو دونوں میں تعارض ہو گیا۔ اس تعارض کا کیا جواب ہو گا؟ حل فرما دیجیے! نوازش ہو گی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جو آیت کریمہ آپ نے پیش کی ہے اس میں ”يَقْضِي“ کا معنی بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ باختیار خود اور کسی دوسرے کے ماتحت ہوئے بغیر فیصلہ فرمائیں گے، آیت کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ  کسی کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔

میں نے ”مالک“ اور ”قاضی“  کے درمیان فرق والی جو تعبیر اختیار کی ہے اس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ قاضی فیصلہ کرنے میں مقرر کردہ قوانین کی پابندی کرنے میں مجبور ہوتا ہے جب کہ مالک مکمل بااختیار ہوتا ہے۔ اس لیے یہ آیت بندہ کی تعبیر کے بالکل موافق ہے، اس تعبیر کے معارض بالکل نہیں!

© Copyright 2025, All Rights Reserved