- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ مدرسہ کی زمین کے پیچھے کچھ لوگوں کی زمین ہے جسے کہیں سے راستہ نہیں مل رہا۔ کیا وقف شدہ زمین سے انہیں راستہ دیا جا سکتا ہے؟ اگر راستہ دیا جا سکتا ہے تو کن شرائط پر دیا جا سکتا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جو زمین جس مقصد کے لیے وقف کی گئی ہے اس کو اسی مقصد میں استعمال کرنا ضروری ہے، واقف کی منشأ کے خلاف کسی دوسرے کام میں استعمال کرنا جائز نہیں ۔ جو زمین مدرسہ کے لیے وقف ہے اس کو مدرسہ کے مصالح کے لیے استعمال کرناضروری ہے، اس میں کسی اور کے لیے راستہ دینا جائز نہیں ہےکیونکہ یہ واقف کی منشأ کے خلاف ہے اور واقف کی غرض کی رعایت کرنا واجب اور ضروری ہے۔
ہاں البتہ اگر اس وقف زمین کے علاوہ باقی اور کسی جگہ سے راستہ نہ نکلتا ہو تو ایسی صورت میں جتنا راستہ کی زمین ہو اس کو دے کر اس کے عوض اور زمین لے لی جائے تو اس کی گنجائش ہے ۔
وأما مراعاۃ غرض الواقفین واجبۃ.
(ردا لمحتار لابن عابدین: ج 6ص683 کتاب الوقف ،مطلب: مراعاۃ غرض الواقفین واجبۃ)
ترجمہ:وقف کرنے والے کی اغراض کی رعایت کرنا واجب ہے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved