- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
کيا زلیخا كا نكاح حضرت یوسف علیہ السلام سے ہوا تھا؟ مکمل وضاحت سے رہنمائی فرما دیجیے! جزاک اللہ خیراً
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں اس بارے میں کوئی تصریح نہیں ہے البتہ بعض مفسرین اور مؤرخین نے بعض تاریخی روایات کی بنا پر اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ عزیز مصر اِطفیر کی وفات کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام کا نکاح زلیخا (جسے تاریخی روایات میں راعیل سے نام سے ذکر کیا گیا ہے) سے ہوا تھا اور اس سے دو بیٹے بھی پیدا ہوئے تھے۔مشہور مفسر قرآن امام ابو جعفر محمد بن جریر بن یزید بن كثیر بن غالب الآملی الطبری (ت 310 ھ) نے محمد بن اسحاق کے حوالے سے لکھا ہے:ٳنَّ إِطْفِيرَ هَلَكَ فِي تِلْكَ اللَّيَالِي، وَأَنَّ الْمَلِكَ الرَّيَّانَ بْنَ الْوَلِيدِ زَوَّجَ يُوسُفَ امْرَأَةَ إِطْفِيرَ رَاعِيلَ، وَأَنَّهَا حِينَ دَخَلَتْ عَلَيْهِ قَالَ: أَلَيْسَ هٰذَا خَيْرٌ مِمَّا كُنْتِ تُرِيدِينَ؟ قَالَ: فَيَزْعُمُونَ أَنَّهَا قَالَتْ: أَيُّهَا الصِّدِّيقُ لَا تَلُمْنِي، فَإِنِّي كُنْتُ امْرَأَةً كَمَا تَرٰى حُسْنًا وَجَمَالًا، نَاعِمَةً فِي مُلْكٍ وَدُنْيَا، وَكَانَ صَاحِبِي لَا يَأْتِي النِّسَاءَ، وَكُنْتَ كَمَا جَعَلَكَ اللَّهُ فِي حُسْنِكَ وَهَيْئَتِكَ، فَغَلَبَتْنِي نَفْسِي عَلٰى مَا رَأَيْتَ، فَيَزْعُمُونَ أَنَّهُ وَجَدَهَا عَذْرَاءَ، فَأَصَابَهَا، فَوَلَدَتْ لَهُ رَجُلَيْنِ: إِفْرَاثِيمَ بْنَ يُوسُفَ، وَمِيشَا بْنَ يُوسُفَ.(جامع البیان فی تاویل القرآن لابن جریر الطبری: ج 16 ص 151)
ترجمہ: (جب عزیزِ مصر اطفیر کے بجائے حضرت یوسف علیہ السلام کو خزانوں کا نگران بنایا گیا) انہی راتوں میں (عزیز مصر)اطفیر کی وفات ہو گئی اور بادشاہ ریان بن ولید نے حضرت یوسف علیہ السلام کا نکاح اطفیر کی بیوی راعیل ( جسے زلیخاکہتے ہیں) سے کردیا۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام اس کے پاس گئے تو آپ علیہ السلام نے اسے فرمایا: کیا یہ (نکاح کے ذریعے ملنا) اس عمل سے بہتر نہیں جس کی تم نے مجھے دعوت دی تھی؟ جواب میں اس عورت نے کہا: اے سچے انسان! آپ مجھے ملامت نہ کریں کیونکہ میں ایسی حسین و جمیل اور ناز ونعمت میں پلی بڑھی عورت ہوں، میرا شوہر نامرد تھا اور چونکہ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو حسن سے سرفراز کیا ہے اس لیے میرا نفس مجھ پر غالب آ گیا تھا (اور میں یہ خواہش کر بیٹھی تھی) حضرت یوسف علیہ السلام نے اسے کنواری پایا۔ آپ نے اس سے قربت کی۔ اس سے دو بیٹے پیدا ہوئے۔ ایک کا نام افراثیم بن یوسف اور دوسرے کا نام میشا بن یوسف تھا۔یہی بات امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد الانصا ری القرطبی المالکی (ت671ھ) اور حافظ عماد الدین ابو الفداء اسماعیل بن خطیب ابی حفص عمر بن کثیر دمشقی شافعی (ت774ھ) نے بھی لکھی ہے۔(الجامع الاحکام القرآن للقرطبی: ج9 ص182 ، البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر: ج 1 ص 210)واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved