- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میں نے سنا ہے اگر کوئی بندہ اپنی بیوی کو خون دے تو اس سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے، اسی طرح اگر کوئی بندہ کسی نامَحرم لڑکی کو خون دے تو اس سے شادی کرنا جائز نہیں ہوتا۔ براہِ کرم بتلائیے اس بات کی کیا حقیقت ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
آپ نے غلط سنا ہے، اس بات کی کوئی حقیقت نہیں۔ خون دینے سے بیوی سے نکاح بھی نہیں ٹوٹتا اور غیر محرم سے شادی بھی حرام نہیں ہوتی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved