- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
اگر کسی لڑکی سے زنا ہو جائے تو لوگ اس کے کپڑوں پر تبصرہ کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ اس نے تنگ اور چست کپڑے پہنے ہوئے تھے یا یہ کہتے ہیں کہ اس وقت یہ لڑکی یہاں کیا کر رہی تھی حالانکہ جس نے جرم کیا ہے اس کے خلاف بولنے کے بجائے اس لڑکی پر تبصرے کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں اسلام ہمیں کیا تعلیمات دیتا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:
﴿ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ (١٢)﴾
(سورۃالحجرات: 12 )
ترجمہ: اے ایمان والو! بہت سےگمانوں سے بچو، کیوں کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور ٹوہ میں مت لگے رہو، اور کوئی کسی کی غیبت نہ کیا کرے ۔کیا تم میں سے کوئی اس کو گوارا کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے ؟ اس سے ضرور ہی تمہیں کراہت آتی ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو ، بے شک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے بڑا مہربان ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل فرماتےہیں:
“مَنْ سَتَرَ عَوْرَةَ أَخِيْهِ الْمُسْلِمِ سَتَرَ اللّٰهُ عَوْرَتَهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ كَشَفَ عَوْرَةَ أَخِيْهِ الْمُسْلِمِ كَشَفَ اللّٰهُ عَوْرَتَهٗ حَتّٰى يَفْضَحَهٗ بِهَا فِيْ بَيْتِهٖ “
(سنن ابن ماجۃ: رقم الحدیث 2546)
ترجمہ: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائیں گے اور جو شخص اپنے مسلمان بھائی کا پردہ فاش کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کا پردہ فاش کر دے گا یہاں تک کہ اسے گھر بیٹھے رسوا کر دے گا۔
قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں یہ واضح طور پر موجود ہے کہ کسی انسان کی غیبت کرنا ، اس کےعیوب کی تلاش میں رہنا، اس کی برائیوں کو اچھالنا ، اس کی خامیوں کو پھیلانا اور اس کے راز فاش کرنا بہت سخت گناہ ہے۔ ہر انسان اپنے اچھے برے عمل کا خود جواب دِہ ہو گا، کسی کا بوجھ کسی دوسرے پر نہ ہو گا۔
اس لیے اگر کسی انسان کی کسی غلطی یا خطا کا علم ہو جائے تو اسے ممکن حد تک چھپایا جائے، (ہاں اگر شرعی طور پر گواہی دینی پڑے تب بتانے کی اجازت ہے) اور اپنے اختیار کی حد تک اسے سمجھایا جائے اور توبہ کی تلقین کی جائے، اس کی غلطی اور جرم پر باتیں بنانا اور طرح طرح کے تبصرے کرنا بالکل روا نہیں، ایسا نہ ہو کہ جرم کرنے والا قیامت کے دن سچی توبہ کی برکت سے بخشا جائے اور تبصرے اور غیبت کرنے والے پکڑے جائیں۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved