• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

خود کشی کی حرمت اور اس کی سزا

استفتاء

میرا سوال یہ ہے کہ اسلام میں خود کشی کرنا حرام ہے، اس پر کوئی دلیل دے دیجئے!اور کیا خود کشی کرنے والا آدمی جنت میں داخل ہو گا یا جہنم میں؟ اس کی بھی وضاحت کر دیجئے ۔ جزاک اللہ خیراً

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

خودکشی کے حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انسانی جسم اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے۔ یہ انسان کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی امانت ہے۔ امانت کا حکم یہ ہے کہ اس میں مالک کی مرضی کو ملحوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ مالک کی مرضی کی خلاف ورزی کر کے امانت میں تصرف کرنا سراسر ناجائز اور حرام شمار ہوتا ہے۔ بدنِ انسانی کے مالک؛ اللہ تعالیٰ نے بھی انسانی جسم کو خود کشی کے ذریعے تلف کرنے کو ممنوع قرار دیا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَ لَا تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ﴾

ترجمہ: اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو!اس آیت کی تفسیر میں معروف مفسر قرآن امام حسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی (ت510ھ) لکھتے ہیں:
وَقِيْلَ: أَرَادَ بِهٖ قَتْلَ الْمُسْلِمِ نَفْسَهٗ. 

ترجمہ: اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد خود کشی کرنا ہے (یعنی اللہ تعالیٰ نے خود کشی کرنے سے منع فرمایا ہے)اس لئے خود کشی کرنا حرام اور ناجائز ہے۔[2]: خودکشی کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اگر خودکشی کرنے والے شخص نے خودکشی کو ”حلال“ سمجھ کر کیا تھا تو ایسا شخص ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا اور اگر اس نے خود کشی کو ”حرام“ سمجھ کر اس کا ارتکاب کیا تھا تو مقررہ سزا پانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی مرضی سے جنت میں داخل ہو گا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاء

مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved