- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ کیاخود کو دیوبندی کہنا ٹھیک ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
بانی دارالعلوم دیوبند قاسم العلوم والخیرات مولانا محمد قاسم نانوتوی (م 1880ء )، سرپرست دارالعلوم دیوبند مولانا رشید احمد گنگوہی (م 1905ء) اور ان دونوں حضرات کے شیخ سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (م 1896ء) رحمۃ اللہ علیہ ، پہلے طالبعلم اور صدر مدرس شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی (1920ء) اور ان کے بلا واسطہ شاگرد ،شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی(1957ء) حکیم الامت مجدد الملت حضرت شاہ اشرف علی تھانوی ( م 1943ء) بانی تبلیغی جماعت حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی (م 1944ء) محدث العصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیری (م 1933ء) مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ دہلوی (م 1952ء)۔جو حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے بلاواسطہ تلامذہ ہیں جو شخص ان کے نظریات کو دل و جان سے مانتا ہے ان نظریات کا اظہار کرتا ہے اور ان کے مطابق اپنے آپ کو چلاتا ہے تو وہ دیوبندی کہلائے گا ۔ اور وہ اپنے آپ کو دیوبندی کہلوا سکتا ہےاور جو ان کے نظریات سے اختلاف کرتا ہے اور خود کو دیوبندی کہتا ہے وہ دیوبندی نہیں ہے، اس کا اختلاف دیوبند کا اختلاف شمار نہیں ہو گا بلکہ دیوبند سے اختلاف شمار ہو گا ۔ اور اس کا خود کو دیو بندی کہنا درست نہیںواللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved