• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کھیل میں شرط لگانے اور نعرۂ تکبیر بلند کرنے کا حکم

استفتاء

ہمارے علاقے میں لڑکے آپس میں والی بال کھیلتے ہیں اور اس میں جُوا یعنی (شرط) بھی لگاتے ہیں اور پھر اسی گیم کے دوران تکبیر کے نعرے بھی لگاتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا مناسب ہے یا نہیں؟ باحوالہ جواب دیجیے گا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

[۱]:    کھیل کے لئے انعام مقرر کرنے یا شرائط لگانے کے حوالے سے درج ذیل تفصیل ملاحظہ فرما لیں۔ اس سے جائز اور ناجائز شرائط کا حکم واضح ہو جائے گا۔

(۱)     کھیل  میں مختلف ٹیمیں انٹری فیس کی مد میں پیسے جمع کرواتی ہیں اور شروع ہی سے یہ بات طے ہوتی ہے کہ اس رقم میں سے جتنی رقم ٹورنامنٹ کے اخراجات کے لیے خرچ ہو گی وہ نکال کر باقی ماندہ رقم جیتنے والی ٹیم کو دیں گے۔ یہ صورت جُوا ہے جو کہ نا جائز ہے۔

(۲)     کھیل میں حصہ لینے والی ٹیموں نے انٹری فیس کی مد میں پیسے جمع کرائے لیکن یہ بات شروع میں طے نہیں ہو کہ اسی رقم سے اخراجات نکال کر باقی رقم جیتنے والی ٹیم کو دی جائے گی بلکہ یہ بات طے کیے بغیر ہی رقم جمع کر لی جائے۔ اسی میں سے کھیل کے اخراجات پورے کیے جائیں۔ جو رقم بچے وہ ٹورنامنٹ میں شریک تمام ٹیموں کی رضامندی سے جیتنے والی ٹیم کو دے دی جائے تو یہ صورت جائز ہے۔

(۳)     دو ٹیموں کے کھیل کھیلا اور شرط یہ طے ہوئی کہ جو ٹیم بھی کھیل ہار جائے گی وہ جیتنے والے کو اتنی رقم دے گی۔ یہ شرط دو طرفہ ہوتی ہے اس لیے ایسی شرط لگانا بھی ناجائز ہے۔

(۴)     دو ٹیموں نے کھیل کھیلا اور شرط یہ طے ہوئی کہ اگر ٹیم ”A“  ہارے گی تو ٹیم ”B“ کو اتنی رقم دے گی لیکن اگر ٹیم ”B“ہارے گی تو ٹیم ”A“  کو کچھ نہیں دے گی۔ یہ صورت  جائز ہے۔

ان صورتوں میں سے سوال میں ذکر کی گئی والی بال والی کھیل پر جو صورت لاگو ہو اسی کے مطابق حکم سمجھ لیا جائے۔

[۲]:    ان جیسے مواقع پر نعرۂ تکبیر لگانا مناسب نہیں خصوصاً جب کھیل میں حرام شرط لگائی گئی ہو تو اس صورت میں نعرہ لگانا بلاشبہ نا جائز ہو گا۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ؀﴾

                                                                      (سورۃ المائدۃ: 90)

ترجمہ: اے ایمان والو! بے شک شراب، جُوا، بت اور جُوئے کے تیر سب کے سب گندے اور شیطانی کام ہے، لہذا ان سے بچو!

علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی (ت1252ھ) جُوے کے بارے میں لکھتے ہیں:

لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْ الْمُقَامِرَيْنِ مِمَّنْ يَجُوزُ أَنْ يَذْهَبَ مَالُهُ إلَى صَاحِبِهِ ، وَيَجُوزُ أَنْ يَسْتَفِيدَ مَالَ صَاحِبِهِ وَهُوَ حَرَامٌ بِالنَّصِّ.

(رد المحتار مع الدر المختار: ج 9ص  665 کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع)

ترجمہ: جُوئے میں یہ بھی ممکن ہے کہ ایک فریق کا مال دوسرے فریق کے پاس چلا جائے  اور یہ بھی ممکن ہے کہ انسان دوسرے فریق کے مال سے نفع حاصل کرے، اس لیے یہ جُوا شرعاً حرام ہے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved