• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

خاوند کا بیوی کی طرف سے زکاۃ ادا کرنا

استفتاء

کیا کوئی خاوند اپنی بیوی کی طرف سے زکوٰۃ ادا کر سکتا ہے ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جی ہاں! خاوند اپنی بیوی کی طرف سے زکوٰۃ ادا کر سکتا ہے  البتہ اس بارے میں دو امور ملحوظ رہنا ضروری ہے:

(1):    اگر بیوی نے خاوند کو کہا کہ آپ میری طرف سے زکوٰۃ ادا کر دیں (چاہے زکوٰۃ کی رقم دی ہو یا نہ دی ہو) اور خاوند نے بیوی کی طرف سے زکوٰۃ کی نیت سے رقم کسی مستحق کو دے دی  تو بیوی کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔

(2):    اگر بیوی نے خاوند کو زکوٰۃ ادا کرنے کا نہیں کہا بلکہ خاوند نے اپنے مال سے بیوی کی زکوٰۃ ادا کرنے کی نیت سے رقم کسی مستحق کو دے دی   اور بعد میں بیوی کو اطلاع کر دی تو اس صورت میں بیوی کی زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی اگرچہ بیوی نے اطلاع ملنے کے بعد زکوٰۃ ادا کرنے کی نیت بھی کر لی ہو تب بھی زکوٰۃ اد انہیں  ہو گی۔

اس لیے ان امور کا خیال رکھا جائے کہ بیوی پہلے خاوند کو زکوٰۃ کی ادائیگی کا وکیل بنائے تب خاوند زکوٰۃ ادا کرے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved