- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
1: کیا بنو ہاشم میں سے کسی بھی شخص کو زکوٰة یا صدقاتِ واجبہ دے سکتے ہیں؟
2: اگر مسجد و مدرسہ متصل ہوں اور مسجد کے تعمیری کام کرنے والے مستری کا تعلق خاندانِ بنو ہاشم مثلاً عباسی خاندان سے ہو تو کیا اسے مدرسہ کے فنڈ سے کھانا کھلا سکتے ہیں ؟
3: نادار ومفلس عباسی شخص کی امداد زکوٰة کی رقم سے کی جاسکتی ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
[۱]: بنو ہاشم کے پانچوں خاندان (آلِ علی، آلِ عباس، آلِ جعفر، آلِ عقیل اور آلِ حارث بن عبد المطلب) میں سے کسی شخص کو بھی زکوٰة یا صدقاتِ واجبہ دینا جائز نہیں ہے۔ اگر ان کی امداد کرنا مقصود ہو تو زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کے علاوہ نفلی صدقہ سے کی جائے۔
حضرت عبد المطلب بن ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ هٰذِهِ الصَّدَقَاتِ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ.
(صحیح مسلم: رقم الحدیث 1072)
ترجمہ: یہ صدقات تو لوگوں کے مال کی میل کچیل ہوتی ہے، یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آل محمد کے لیے جائز نہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفَارِسِيَّةِ: كِخْ كِخْ أَمَا تَعْرِفُ أَنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ.
(صحیح البخاری: رقم الحدیث 3072)
ترجمہ: ایک مرتبہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے صدقہ کی کھجور لے کر اپنے منہ میں ڈال لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”کِخْ کِخْ“ (یہ اس لیے کہا تاکہ وہ کھجور کو منہ سے نکال دیں) پھر ارشاد فرمایا: کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں کہ ہم لوگ صدقہ نہیں کھاتے ۔
علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی الحنفی(ت1088ھ) لکھتے ہیں:
وَ لَا إلٰى بَنِي هَاشِمٍ . (الدر المختار مع رد المحتار: ج 2 ص350 باب المصرف)
ترجمہ: اور بنی ہاشم کو بھی زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے۔
[۲]: اگر یہ کھانا زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کی رقم سے تیار کیا گیا ہو تو عباسی شخص کو کھلانا جائز نہیں ہے۔ اگر عام عطیات اور صدقاتِ نافلہ سے تیار کیا ہو تو کھلانا جائز ہے۔ اسی طرح اگر صدقاتِ واجبہ میں تملیکِ شرعی اختیار کی گئی ہو تب بھی کھلانا جائز ہے۔
[۳]: جائز نہیں۔ ہاں البتہ زکوٰۃ کے علاوہ نفلی صدقہ سے امداد کی جا سکتی ہے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved