- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
(1): کیکڑا بطور غذا استعمال کرنے کا کیا حکم ہے ؟
(2): بطور دواء کا کیا حکم ہے؟ جیسے اگر کسی کو ٹھنڈ لگی ہو اور ڈاکٹر نے کیکڑے کا سوپ پینے کا کہا ہو تو بطور دواء بھی اس کا حکم بیان فرما دیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
سمندری جانوروں میں سے صرف مچھلی کا کھانا حلال ہے، اس کے علاوہ باقی جانوروں کا کھانا جائز نہیں۔ ”کیکڑا“ مچھلی کی قسم میں سے نہیں، اس لیے اس کا کھانا بھی جائز نہیں۔
علامہ علاء الدین ابو بكر بن مسعود بن احمد الکاسانی الحنفی (ت587ھ) لکھتے ہیں:
أَمَّا الَّذِيْ يَعِيشُ فِي الْبَحْرِ فَجَمِيعُ مَا فِي الْبَحْرِ مِنَ الْحَيَوَانِ مُحَرَّمُ الْأَكْلِ إلَّا السَّمَكَ خَاصَّةً فَإِنَّهٗ يَحِلُّ أَكْلُهُ …. وَلَنَا قَوْلُهُ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ﴾ مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ بَيْنِ الْبَرِّيِّ وَالْبَحْرِيِّ وَقَوْلُهُ عَزَّ شَأْنُهُ ﴿وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ﴾ وَالضُّفْدَعُ وَالسَّرَطَانُ وَالْحَيَّةُ وَنَحْوُهَا مِنَ الْخَبَائِثِ ….. وَبِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ ؛ السَّمَكُ وَالْجَرَادُ.
(بدائع الصنائع: ج5 ص35)
ترجمہ: جو جانور پانی میں رہتے ہیں ان میں سے سوائے مچھلی کے باقی تمام جانوروں کا کھانا حرام ہے، صرف مچھلی کا کھانا ہی جائز ہے…. ہمارے اس موقف کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ﴾ کہ ”تم پر مردار، خون اور خنزیر کا گوشت حرام کیا گیا ہے۔“ اس میں اللہ تعالیٰ نے پانی اور خشکی والے جانوروں میں فرق کیے بغیر دونوں اقسام کے ان جانوروں کو حرام قرار دیا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ یہ کا فرمان بھی ہماری دلیل ہے: ﴿وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ﴾ کہ” وہ (پیغمبر) ان لوگوں کے لیے گندی چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے۔ “ مینڈک، کیکڑا، سانپ اور اس جیسے دیگر جانور ان خبائث اور گندی چیزوں میں داخل ہیں (اس لیے ان کا کھانا بھی حرام ہو گا)۔ اسی طرح ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے بھی دلیل لیتے ہیں کہ ”ہمارے لیے دو مردار حلال کیے گئے، ایک مچھلی اور دوسرا ٹڈی دل“
(2): حرام چیزوں کو بطورِ علاج استعمال کرنا دو شرائط کے ساتھ جائز ہے:
1: یہ علاج کوئی دیند دار اور تجربہ کار مُعالج تجویز کرے۔
2: بیماری ایسی ہو جس میں اس حرام کے علاوہ کوئی اور دوائی مؤثر نہ ہو۔
محض ٹھنڈ لگنا ایسی بیماری نہیں جس کی وجہ سے کیکڑے کا سوپ ہی تجویز کیا جائے بلکہ ٹھنڈ سے بچاؤ دیگر غذاؤوں اور دواؤوں سے ممکن ہوتا ہے۔ اس لیے ایسی صورت میں کیکڑے کو بطورِ علاج استعمال کرنا بھی جائز نہیں!
© Copyright 2025, All Rights Reserved