- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
سوال یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب دوسری شادی کرنے کا ارادہ کیا تو اس سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دکھ ہوا۔ جب یہ بات آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جس نے فاطمہ کو دکھ دیا اس نے مجھے دکھ دیا۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی دوسری شادی کا ارادہ چھوڑ دیا، اس بارے میں پوچھنا یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بیٹی کی موجودگی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے دوسری شادی پسند نہیں فرمائی تو پھر امت کے لئے کیوں اجازت دی؟ جیسے دوسری شادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ناپسند تھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پسند نہیں نہیں آئی اسی طرح اس امت کی لڑکیاں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں ہیں دوسری شادی کو پسند نہیں کرتیں تو یہاں کیوں اس کا جواز ہوا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
شریعت مطہرہ نے ضرورت کے تحت دوسرے نکاح کی اجازت تو دی ہے لیکن بلا ضرورت دوسرا نکاح کرنے کی ترغیب نہیں دی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دوسرے نکاح کا ارادہ فرمایا تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ انہیں ضرورت نہیں ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا۔ تو یہ منع فرمانا اس بناء پر تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس کی ضرورت نہیں تھی، کسی شخص کو دوسرے نکاح کی ضرورت ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہو ایسا کہیں بھی منقول نہیں۔ اور یہ بات آج بھی ممکن ہے کہ اگر کوئی شیخ ومربی اور گھرانے کا بڑا اپنے کسی مریدومسترشد یا کسی چھوٹے کو دوسرے نکاح سے منع کر دے تو یہ منع کرنا شرعی حکم کی تردید کے لیے نہیں ہوا کرتا بلکہ اس بات کے پیشِ نظر ہوتا ہے کہ اس مرید یا چھوٹے کو دوسرے نکاح کی حاجت نہیں۔
نیز یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ کسی عورت کو یہ بات بالکل پسند نہیں ہوتی کہ وہ اپنے خاوند کے نکاح میں دوسری عورت کو بطورِ سوکن قبول کرے۔ اس لیے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھی یہ پسند نہیں تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے ہوتے ہوئے دوسرا نکاح کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ جس نے فاطمہ کو دکھ دیا اس نے مجھے دکھ دیا، یہ عنوان محض حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی دلجوئی کے لیے اختیار فرمایا ورنہ منع کرنے میں مقصود یہی بات پیشِ نظر تھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دوسرے نکاح کی حاجت نہیں تھی۔
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منع کرنے پر اشکال نہ ہونا چاہیے!
© Copyright 2025, All Rights Reserved