- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
حضرت! میں نے کتابوں میں پڑھا اور علمائے کرام سے سنا بھی ہے کہ انجکشن سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ انجکشن معدہ تک نہیں پہنچتا مگر حضرت! میں نے اس کے برعکس بہت سارے علماء جو دوسرے مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور کچھ اطباء حضرات سے بھی دریافت کیا مگر ان کا کہنا ہے کہ خود کے ذریعہ انجکشن بھی معدہ میں جاتا ہے۔
دوسری بات یہ کہ بخاری شریف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ جسم میں کوئی بھی چیز داخل کرنے سے روزہ جاتا رہا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
[1]: روزہ ٹوٹنے کی علت یہ ہے کہ کوئی غذا یا دوا جسم کے مَنْفَذ اصلی (یعنی جسم کے وہ راستے جن کے ذریعے کوئی چیز جسم میں داخل ہو تو شریعت نے روزہ ٹوٹنے کا حکم لگایا ہے جیسے منہ، ناک، مقعد وغیرہ) کے ذریعے جسم میں داخل ہو۔ اگر کوئی چیز مَنْفَذ اصلی کے علاوہ مسامات اور رگوں کے ذریعے جسم میں داخل ہو تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ فقہاء نے جہاں روزہ نہ ٹوٹنے کا ذکر کیا ہے وہاں سر میں تیل ڈالنے اور آنکھ میں سرمہ ڈالنے کو بطور مثال پیش کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ سر میں تیل ڈالنے سے اور آنکھوں میں سرمہ ڈالنے سے ان کا اثر حلق میں پہنچتا ہے لیکن اس کے باوجود روزہ نہ ٹوٹنے کا حکم لگایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسامات کے ذریعے شئے کے جسم میں داخل ہونے کو روزہ کے منافی قرار نہیں دیا گیا۔
انجکشن میں بھی یہی صورت حال پیش نظر ہے کہ انجکشن کی دوائی معدہ تک پہنچ بھی جائے تو یہ پہنچنا مَنْفَذ اصلی کے ذریعے نہیں بلکہ مسامات اور رگوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ اس لیے اصول مذکور کی بنا پر روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اس وضاحت کے بعد اشکال رفع ہو جانا چاہیے۔
[2]: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان کردہ یہ قاعدہ عام نہیں بلکہ خاص ہے۔ مراد یہ ہے کہ جو چیز منفذ اصلی کے ذریعہ معدہ میں پہنچے وہ روزے کو فاسد کر دیتی ہے ورنہ سانس بھی انسان باہر سے اندر لے جاتا ہے تو چاہیے کہ سانس لینے سے بھی روزہ ٹوٹنا چاہیے حالانکہ کوئی بھی اس کا قائل نہیں۔
یہی مراد علامہ زین الدین بن ابراہیم بن محمد المعروف ابن نجیم الحنفی (ت970ھ) نے البحر الرائق (ج2 ص299 کتاب الصوم باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده ) میں اس روایت کی تشریح میں بیان کی ہے۔ وہیں تفصیل ملاحظہ کر لی جائے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved