- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
امید کرتاہوں کہ آپ خیر وعافیت سے ہوں گے۔ عرضِ خدمت ہے کہ ایک مسئلہ درپیش ہے کہ ہمارے علاقے (ایم پی) میں کچھ افراد نے مل کر زکوٰۃ کی رقم وصول کی ہے۔ یہ رقم تقریباً ستر اسی ہزار روپے ہیں۔ اب یہ افراد اس رقم کو ستائیس شب قدر کے بعد عید الفطر سے قبل غرباء ومساکین میں تقسیم کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ان کا ارادہ ہے کہ اپنے علاقے کے امام ومؤذن حضرات کو بھی یہ زکوٰۃ کی رقم دیں۔ تو امام اورمؤذن لوگ زکوٰۃ کی اس رقم کے مستحق ہوں گے؟ جبکہ امام کو تنخواہ نو دس ہزار روپے ملتے ہیں اور مؤذن کو سات آٹھ ہزار روپے۔ باقی ان کے پاس نہ چاندی کی مقدار کی رقم جمع ہے اور نہ سونے کی، وہ اپنی تنخواہ سے ہی اپنی زندگی بسر کرتے ہیں اور کچھ جمع رقم نہیں ہوتی۔ اگر کسی کے پاس ہے تو وہ قریب دس بیس ہزار روپیہ ہیں اور ہمارے ہاں چاندی آج تقریباً چھتیس ہزار روپیہ کی ہے اور سونا قریب قریب پینتالیس پچاس ہزار ہے۔ تو کیا ایسی صورت میں شرعی طور پر امام ومؤذن کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
قاعدہ سمجھ لیجیے کہ اگر کسی شخص کی ملکیت میں ساڑھے سات تولے سونا (87.48 گرام) یا ساڑھے باون تولہ چاندی (612.36 گرام) یا سونے یا چاندی کی مذکورہ مقدار نہ ہو یا ہو لیکن اس مذکورہ مقدار سے کم ہو تو اب دیکھا جائے گا کہ اگر اس کی ملکیت میں یہ پانچ چیزیں سونا ، چاندی ، نقدی ، مالِ تجارت گھر کا زائد از ضرورت سامان موجود ہوں یا ان میں سے بعض موجود ہوں اور ان کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو ں تو اس شخص کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں! ہاں اگر اس مجموعہ کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے کم ہو تو ایسے شخص کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔
سوال میں ذکر کردہ صورت میں یہ ائمہ و مؤذنین مستحقِ زکوٰۃ قرار پاتے ہیں اس لیے انہیں زکوٰۃ کی رقم دی جا سکتی ہے۔ ہاں یہ خیال رہے کہ ان لوگوں کا تعلق بنو ہاشم کے ان پانچ خاندانوں سے نہ ہو جس کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہوتا۔ نیز زکوٰۃ کی یہ رقم انہیں تنخواہ کے علاوہ بلا معاوضہ دی جائے تو انہیں دینا شرعاً درست ہو گا۔
([1] ) وہ پانچ خاندان یہ ہیں۔ ۱…..آل علی رضی اللہ عنہ، (مراد اس سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وہ نسل ہے جو محمد بن حنفیہ کے واسطے سے چلتی ہو۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد کے واسطے سے چلنے والی نسل کو آج کے عرف میں ”سید“ اور محمد بن حنفیہ کے واسطے سے چلنے والی نسل کو ”اعوان“ کہتے ہیں)، ۲….. آل عباس رضی اللہ عنہ ، ۳….. آلِ جعفر رضی اللہ عنہ، ۴….. آلِ عقیل رضی اللہ عنہ اور ۵….. آلِ حارث بن عبد المطلب رضی اللہ عنہم
© Copyright 2025, All Rights Reserved