• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

امام کے پیچھے کتنا فاصلہ اتحادِ مکان میں شامل ہو کر اتصالِ صفوف کے حکم میں شمار ہوتا ہے؟

استفتاء

ایک جماعت پاکستان سے یہاں موریطانیہ  میں آئی  ہوئی ہے۔ ادھر مساجد میں اکثر دورانِ نماز  سامان چوری ہو جاتا ہے جس وجہ سے  ایک دو ساتھی سامان کی حفاظت کے لیے  تین چار  یا اس سے زیادہ صفیں چھوڑ کر سامان کے پاس کھڑے ہو کر امام کی اقتداء میں نماز ادا کرتے ہیں۔ ادھر مالکی مذہب کے احباب کہتے ہیں کہ اتصالِ صفوف باقی ہے اس لیے اقتداء درست ہے، اس لیے آپ  بے فکر ہو کر نماز پڑھیں اور اپنے سامان کی حفاظت کریں۔ اب جماعت کے ان  دو ساتھیوں کی نماز امام کی اقتداء میں درست ہوتی ہے یا نہیں؟ آپ سے درخواست ہے کہ اس بارے میں فقہ حنفی کی رو سے  راہنمائی فرمائیں  اور ساتھ یہ بھی بتائیں کہ امام کے پیچھے کتنا فاصلہ اتصالِ صف میں شمار ہوتا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

صحتِ اقتداء کے لیے امام اور مقتدی کے درمیان اتحادِ مکان شرط ہے یا نہیں؟ اگر شرط ہے تو اس صورت میں کتنا فاصلہ اتحادِمکان میں شامل ہو کر اتصالِ صفوف کے حکم ہو گا اور کتنا فاصلہ اس حکم میں نہیں ہو گا؟ اس بارے میں تفصیل حسبِ ذیل ہے۔

مذہب ِ مالکیہ:

مذہبِ مالکیہ  میں جوازِ  اقتداء کے لیے امام اور مقتدی کے درمیان اتحادِ مکان  شرط نہیں ہے، اس لیے امام اور مقتدی کے درمیان جس قدر فاصلہ بھی ہو وہ ان کے نزدیک اتصالِ صفوف سے مانع نہیں بنے گا بشرطیکہ وہ مقتدی امام(یا مکبّر) کی آواز سن کر یا (امام یا نمازیوں کو)دیکھ کر   افعالِ صلوٰۃ کی ادائیگی میں نقل و حرکت کا علم رکھتا ہو۔ لہٰذا  اگر کوئی نمازی دور سے دیکھ کر یا آواز سن کرافعالِ صلوٰۃ (قیام، رکوع، قومہ، سجدے، جلسہ)   کی ادائیگی سے باخبر  ہو سکتا ہو تو اتنے فاصلے کے باوجود  اس امام کی اقتداء کرنا درست ہے اور اس صورت میں اس کی نماز بلا کراہت جائز ہو گی۔ ہاں البتہ نمازِ جمعہ میں جوازِ  اقتداء کے لیے امام اور مقتدی کے درمیان اتحادِ مکان اور اتصالِ صف شرط  ہے۔

الدکتور الشیخ  وَھبۃ الزُّحَیلی   رحمہ اللہ (ت: 1436ھ)تحریر فرماتے ہیں:

أما المالكية فقالوا: لا يشترط هذا الشرط، فاختلاف مكان الإمام والمأموم لا يمنع صحة الاقتداء، ووجود حائل من نهر أو طريق أو جدار لا يمنع الاقتداء، متى أمكن ضبط أفعال الإمام برؤية أو سماع، ولا يشترط إمكان التوصل إليه، إلا الجمعة، فلو صلى المأموم في بيت مجاور للمسجد مقتدياً بإمامه، فصلاته باطلة؛ لأن الجامع شرط في صحة الجمعة.

(الفقہ الاسلامی و اَدِلَّتہ: ج2 ص 1247 مکتبہ رشیدیہ، کوئٹہ)

ترجمہ:  مالکیہ یہ کہتے ہیں کہ یہ شرط(اتحادِ مکان) ضروری نہیں ہے، اس لیے امام اور مقتدی کے مکان کا مختلف ہونا  صحتِ  اقتداء سے مانع نہیں ہے اور   نہر، راستے یا کسی دیوار کی   وجہ سے رکاوٹ کی صورت میں  امام کی اقتداء درست ہے بشرطیکہ وہ مقتدی سن کر یا دیکھ کر  امام کے افعالِ صلوٰۃ (کی ادائیگی) سے باخبر رہے۔ (صحتِ اقتداء کی وجہ سے) امام کے ساتھ جگہ کا اتصال ضروری قرار نہیں دیا گیا۔ ہاں مگر جمعہ کی نماز کے لیے (اتحادِ مکان) شرط ہے، پس اگر کسی نمازی نے  مسجد سے متصل کمرے  میں رہ کر امامِ مسجد کی اقتداء  نمازِ جمعہ میں کی تو اس کی نماز (اقتداء درست نہ ہونے کی وجہ سے)باطل ہو گی کیوں کہ جمعہ کی صحت کے لیے اتحادِ مکان شرط ہے۔

مذہبِ حنفی:

مذہبِ حنفی میں  صحتِ اقتداء کے لیے    اتحادِ مکان  شرط ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ امام اور مقتدی کا مکانِ صلوٰۃ  حقیقتاً یا حکماً  متحدہو۔ حقیقتاً سے مراد جیسے عام طور پر مساجد میں صفیں قائم ہوتی ہیں اور حکماً سے مراد یہ ہے کہ  دو صفوں کا درمیانی فاصلہ بہت کم ہو جیسے صفوں کے درمیان اتنی چھوٹی نہر ہو جس میں چھوٹی کشتیاں بھی نہ چل سکیں یا   اتنا تنگ  راستہ حائل ہو جس سے گاڑی  نہ گزر  سکے یا اگر گاڑی گزرنے جتنا راستہ ہو مگر اس راستے والی جگہ پہ بھی نمازی کھڑے ہوں تو  یہ خلا صحتِ اقتداء سے مانع نہ ہو گا بلکہ  یہ حکماً اتصال  شمار ہو گا۔

فقہاء کرام نے صراحت کی ہے کہ مسجد صغیر ؛ مکان واحد کے حکم میں ہے اور مسجدِ کبیر مکان واحد کے حکم میں نہیں۔  اسی طرح  چھوٹا مکان (جو چالیس گز شرعی سے کم ہو) مکان واحد کے حکم میں ہے لیکن بڑا مکان اور  میدان  مکان واحد کے حکم میں نہیں ہیں ۔   لہٰذا جو جگہیں مکان واحد کے حکم میں ہیں ان میں مقتدی  کہیں بھی کھڑا ہو جائے تو امام کی  اقتداء درست ہو گی، (ہاں اگر اس صورت میں  کسی وجہ سے  امام کے ادائیگی صلوٰۃ کے افعال اس پر مشتبہ  ہو جائیں تب اقتداء صحیح نہ ہو گی) اور جو جگہیں مکان واحد کے حکم میں نہیں ان میں اگر امام اور پہلی صف کے درمیان یا درمیانی دو صفوں کے مابین  دو صفوں کی مقدار  سے زیادہ  فاصلہ ہوا تو صفوں میں اتصال نہ ہونے کی وجہ سے  پیچھے والوں کی نماز نہیں ہو گی۔

فائدہ:

مسجد صغیر جیسے ہمارے علاقوں کی عام مساجد اور مسجد کبیر سے مراد  بہت بڑی مسجد جس میں ہزاروں افراد سما جائیں، اس کی مثال مسجد القدس اور جامع مسجد قدیم خوارزم  سے دی گئی ہے۔     علامہ   محمدامین بن عمر ابن عابدین شامی رحمہ اللہ  ) ت 1252 ھ(   لکھتے ہیں:

الجامع القديم بخوارزم فإن ربعه كان على أربعة آلاف أسطوانةوجامع القدس الشريف أعني ما يشتمل على المساجد الثلاثة الأقصى والصخرة والبيضاء.

(حاشیہ ابن عابدین: ج1 ص 585 طبع، السعید)

ترجمہ:           مسجد جامع قدیم خوارزم(اتنی بڑی مسجد ہے جس کا) صرف  ربع (چوتھائی حصہ) چار ہزار ستونوں پر مشتمل ہے اور مسجد القدس   اتنی بڑی ہے جو تین مساجد یعنی مسجد  اقصیٰ، مسجد صخرہ اور مسجد بیضاء کے مجموعی رقبہ کے برابر ہے۔

          فقیہ الملت حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ تعالیٰ نے  ایک سوال کے جواب  میں  اتصالِ صفوف کی وضاحت فرمائی ہے، ذیل سوال اور جواب دونوں نقل کیے جاتے ہیں۔

اتّصالِ صفوف برائے اقتداء:

سوال(۲۹۵۷)

(۱)     اگر بارش ہو اور مسجد کے صحن میں مقتدی کھڑے نہ ہو سکتے ہوں اور صحن کے پاس متصل دوسرا مکان اوپر ہو یا نیچے، وہاں کھڑے ہو  کر مسجد کے امام کے پیچھے اقتداء کر کے نماز پڑھیں تو صحیح ہے یا نہیں؟ جب کہ اتصالِ صفوف بارش کی وجہ سے نہیں۔

(۲)     امام مسجد میں نماز پڑھا رہے ہوں اور مقتدی بالکل منتہائے مسجد میں ہے، اقتداء صحیح ہے یا نہیں؟ (محمد بشیر رنگونی)

الجواب حامداً و مصلیاً:

(۱)     اگر وہ مسجد صغیر ہے اور اس مکان کو مسجد سے دو صفوں کی مقدار کا فصل نہیں اور امام کے انتقالات و احوال کا اشتباہ نہیں ہوتا بلکہ علم ہوتا رہتا ہے خواہ امام کی آواز سے یا مکبّر کی آواز سے تو اقتداء صحیح ہے اور اگر مسجد کبیر ہے جیسے مسجد قدس یا دو صفوں کی مقدار کا فصل ہے یا امام کا حال مشتبہ رہتا ہو تو اقتداء صحیح نہیں ہے۔ ھٰکذا یفہم من  شروط الاقتداء المذکورۃ فی الشامی:

(۲)     عدمِ اتصال کی صورت میں مسجد صغیر میں اقتداء صحیح ہوتا ہے، بہت بڑی میں صحیح نہیں، جیسے قدس کہ بہت بڑی مسجد ہے، اس میں صحیح نہیں۔

(فتاویٰ محمودیہ: ج 8 ص 537،538 )

درج بالا تفصیل کی روشنی میں سوال میں مذکور مسئلہ کا جواب یہ ہے کہ  اس مسجد میں سامان کی حفاظت کے لیے  تین چار ، یا چار پانچ صفیں فاصلہ رکھ کر   امام کی اقتداء میں نماز پڑھنے والوں کی    نماز درست ہے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved