- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میں ایک گروپ میں ایڈ ہوں۔ اس میں ایک بات یہ شیئر ہوئی تھی کہ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کا آیات مبین والا ایک مجرب عمل ہے جس میں قرآن کریم کی 106 آیات مبین پڑھی جاتی ہیں۔ اس کے بعد جو دعا کی جائے وہ قبول ہوتی ہے اور مقاصد کا حصول آسان ہوتا ہے۔ یہ 106 آیات آپ کی خدمت میں (Pdf فارمیٹ میں ) ارسال ہیں جو سورۃ البقرۃ سے لے کر والناس تک تمام قرآن کریم سے بالترتیب لکھی گئی ہیں ۔ اس حوالے سے آپ سے چند باتیں دریافت کرنی ہیں:
(1): اس عمل کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ آیا ہم وظیفہ کے طور پر اسے کر سکتے ہیں یا نہیں؟
(2): کیا آیات مبین کی اسی ترتیب سے تلاوت کرنی ہے جس ترتیب سے قرآن کریم میں لکھی گئی ہیں یا ان کی ترتیب کچھ الگ ہے جیسے آیاتِ شفاء، آیات سکینت اور آیات منجیات کو قرآنی ترتیب سے نہیں پڑھا جاتا بلکہ انہیں پڑھنے کا طریقہ کچھ اس طرح ہوتا ہے کہ بعض آیات جو قرآنی ترتیب میں بعد میں ہیں وہ اس وظیفہ میں پہلے پڑھی جاتی ہیں اور بعض آیات جو قرآنی ترتیب میں پہلے ہی وہ وظیفہ میں بعد میں پڑھی جاتی ہیں۔
(3): کیا یہ آیات مکمل پڑھنی ہیں یا محض آیت کا وہ حصہ پڑھنا ہے جس میں لفظ ”مبین“ وارد ہوا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
[۱]: ہمارے اکابرین نے بعض قرآنی آیات، احادیث مبارکہ میں منقول دعاؤں یا بعض صحیح المعانی کلمات کو مخصوص مقدار میں پڑھنے سے خاص تاثیر کا مشاہدہ کیا ہے۔ اکابرین نے یہ اعمال اپنے مریدین اور متعلقین کو بھی ارشاد فرمائے تو انہوں نے بھی ان اعمال میں مطلوبہ تاثیر کا مشاہدہ کیا۔ یہ اعمال ووظائف منصوص نہیں بلکہ اکابرین کے تجربات کا نتیجہ ہیں، اس لیے انہیں منصوص سمجھے بغیر اکابرین پر اعتماد کرتے ہوئے سر انجام دیا جائے تو جائز ہے۔ اکابرین میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ (ت1176ھ) کی ”القول الجمیل“ اور حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ (ت1362ھ) کی ”اعمال قرآنی“ بھی اسی سلسلہ کی کتب ہیں جس میں انہوں نے اپنے یا اپنے اسلاف کے تجربات کو بیان کیا ہے۔
حضرت لاہوری رحمہ اللہ کا آیات مبین والا عمل تلاش کے باوجود ہمیں نہیں مل سکا لیکن معروف ضرور ہے۔ حضرت رحمہ اللہ کے تجربہ ومشاہدہ کی بنا پر منصوص ہونے کا اعتقاد رکھے بغیر اسے پڑھنا جائز ہے۔
[۲]: بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ آیات جس ترتیب سے قرآن مجید میں مذکور ہیں اسی ترتیب کو ملحوظ رکھا جائے۔ ہاں! اگر حضرت لاہوری رحمہ اللہ کی کوئی تصریح پیشِ نظر ہو تو اس کے مطابق اس ترتیب کو تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے۔
[۳]: دونوں طرح سے گنجائش معلوم ہوتی ہے کیونکہ دیگر آیات مخصوصہ (آیاتِ شفاء، آیات سکینت وغیرہ ) میں بعض آیات اختصاراً بھی پڑھی گئی ہیں۔ خود آیاتِ مبین والے عمل کا عنوان بھی اس طرف مشیر ہے کہ مقصود لفظ ”مبین“ کا مذکور ہونا ہے۔ اس لئے لفظ ”مبین“ سے متعلق حصہ پڑھا جائے تو دیگر وظائف کے پیشِ نظر درست ہو گا البتہ مکمل آیت پڑھی جائے تو مستحسن ضرور ہو گا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved