- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کا یہ قول کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے اجتہادات خطا ہیں لیکن احتمالِ صواب کے ساتھ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اجتہادات صواب ہیں لیکن احتمالِ خطا کے ساتھ ۔ اس قول کا کیا مطلب ہے؟ وضاحت فرما دیجیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
درج ذیل امور ملاحظہ فرمائیں! ان سے حضرت کشمیری رحمہ اللہ کے بیان کردہ ضابطہ کا مفہوم اور اس کی حدود واضح ہو جائیں گی۔
(1): اس ضابطہ کا تعلق فروعات کے ساتھ ہے، عقائد کے ساتھ نہیں۔ عقائد میں ائمہ اربعہ؛ امام ابو حنیفہ، امام مالک بن انس، امام محمد بن ادریس شافعی اور امام احمد بن محمد بن حنبل رحمہم اللہ کا کوئی اختلاف نہیں تھا۔ چاروں ائمہ اھل السنۃ والجماعۃ تھے۔ اس لیے اگر کوئی فرقہ ائمہ اربعہ سے اختلاف کرے تو وہاں مذکورہ ضابطہ لاگو نہیں ہو گا بلکہ وہاں یہ ضابطہ ہو گا کہ ”ہمارا اھل السنۃ والجماعۃکا موقف حق اور ہمارے مخالف (فِرَقِ باطلہ مثلاً معتزلہ، جبریہ، قدریہ، کرامیہ وغیرہ) کا موقف باطل ہے“
(2): فروعی مسائل میں سے بعض کے متعلق قرآن و حدیث میں واضح نص موجود ہوتی ہے اور اس میں کسی قسم کا اِبہام، خفاء یا احتمال نہیں ہوتا۔ واضح نص موجود ہونے کی وجہ سے تمام ائمہ کے ہاں اس مسئلہ پر عمل کر لیا جاتا ہے۔ ان مسائل کو ”مسائل منصوصہ“ کہتے ہیں اور ان میں کسی قسم کا اختلاف رونما نہیں ہوتا۔
(3): فروعی مسائل میں سے کئی مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں قرآن و حدیث میں کوئی واضح حکم موجود نہیں ہوتا۔ یہ مسائل پانچ قسم کے ہیں:
۱: مسائل غیر منصوصہ (جن کا حکم منقول نہ ہو)
۲: مسائل منصوصہ متعارضہ (حکم منقول ہو لیکن باہم تعارض ہو)
۳: مسائل منصوصہ مجملہ (حکم منقول ہو لیکن اس کی تفصیل نہ ہو)
۴: مسائل منصوصہ محتملۃ المعانی (حکم تومنقول ہو لیکن اس میں کئی معانی کا احتمال ہو)
۵: مسائل منصوصہ غیر متعینۃ الاحکام (حکم منقول ہو لیکن اس کی حیثیت معلوم نہ ہو)
ان پانچوں کی مثالیں بندہ کی مرتب کردہ فائل ”مسئلہ تقلید“ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔
چونکہ ان مسائل میں کوئی واضح حکم نہیں ہوتا اس لیے ہر مجتہد اپنی خداداد صلاحیت سے ان مسائل میں حکم شرعی معلوم کرنے کے لیے اجتہاد کرتا ہے۔ جس موقف کو بہتر سمجھتا ہے اسے ”صواب“ اور اس کے مدمقابل موقف کو ”خطا“ قرار دیتا ہے۔ چونکہ ہر مجتہد کی صلاحیت، مدارجِ اجتہاد اور نصوص سے استنباط کردہ اصول جدا جدا ہوتے ہیں اس لیے مسائل میں اختلاف کا پایا جانا ناگزیر چیز ہے۔
(4): غیر منصوص مسائل میں مجتہد دیانت داری کی بنیاد پر اپنے اجتہادات میں اسی جہت کو ترجیح دیتا ہے جو اس کے ہاں قرآن وحدیث سے اقرب ہوتی ہے لیکن چونکہ اس کا موقف منصوص نہیں ہوتا اس لیے اپنی رائے کو حتمی اور یقینی طور پر ”صحیح“ اور دوسرے مجتہد کی رائے کو حتمی اور یقینی طور پر ”باطل“ نہیں کہتا کیونکہ یہ دیانت داری کے خلاف ہے بلکہ کمالِ دیانت کے پیشِ نظر ایک مجتہد اپنے اجتہادات کو ”صواب“ جانتے ہوئے ان میں ”خطا“کے احتمال کا بھی قائل ہوتا ہے اور دوسرے مجتہد کے اجتہاد میں ”خطا“کا احتمال سمجھنے کے باوجود اس میں ”صواب“ کے احتمال کا بھی قائل ہوتا ہے۔ یہی صورتِ حال مجتہد کی تقلید کرنے والے (مقلد ) کے پیش نظر ہوتی ہے ۔
علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کے قولِ مذکور کی مراد بھی یہی صورت ہے کہ ہم چونکہ حنفی ہیں، غیر منصوص مسائل میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اجتہادات پر عمل پیرا ہیں لیکن چونکہ یہ اجتہادات ”نص“ کا درجہ نہیں رکھتے اس لیے امام صاحب کے اجتہادات میں ”خطا“ کے احتمال کے بھی قائل ہیں۔ امام صاحب کے بالمقابل امام شافعی رحمہ اللہ کے اجتہادات کو خطا سمجھتے ہیں لیکن ان کا ”خطا“ پر ہونا چونکہ محض ظن کی بنا پر ہے، اس میں کوئی نص موجود نہیں ہے اس لیے ان کے بارے میں اس احتمال کے بھی قائل ہیں کہ ممکن ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے اجتہادات ”صواب“ ہوں۔ یہ دیانت کا تقاضا ہے ورنہ اپنے ہی مجتہد کے اجتہادات کو ”حق“ اور دوسرے مجتہد کے اجتہادات کو ”باطل“ کہنے سے لازم آئے گا کہ ہم نے اپنے مجتہد کو تشریعی مقام پر فائز سمجھ لیا حالانکہ تشریعی حق صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔
فائدہ نمبر 1: بعض لوگ تقلید کے رد میں یہ باتیں کہتے رہتے ہیں کہ مقلدین نے اپنے مجتہدین کو ارباباً من دون اللہ بنا لیا ہے (یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان مجتہدین کو اپنا رب بنا لیا)۔ ان لوگوں کی یہ بات صریح البطلان ہے۔ اس لیے کہ اگر ہم مجتہدین کو ”خدا“ کا درجہ دیتے تو ان کے اجتہادات کو ہی ”حق“ اور ان کے مدمقابل دیگر آراء کو ”باطل“ مانتے۔ ہمارا اپنے مجتہد کے اجتہاد میں احتمالِ خطا ماننا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ہم انہیں خدا کا درجہ نہیں دیتے۔ یہ ان لوگوں کا ہم پر بہتانِ عظیم ہے جس کا انہیں روزِ قیامت حساب دینا ہو گا۔
فائدہ نمبر 2: اس وضاحت سے ان لوگوں کی غلطی بھی واضح ہو جاتی ہے جو غیر مجتہد ہو کر مجتہدین سے اختلاف کرتے ہیں اور اپنے بیان کردہ مسائل کو ”حق“ اور مجتہدین کے مسائل کو -معاذاللہ- ”باطل“ اور گمراہی بتاتے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ لوگ خود مقامِ تشریع پر فائز ہیں جو کہ بالکل غلط اور باطل نظریہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے عمل سے امت کو محفوظ رکھے۔ آمین
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved