• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور افطار بالجماع

استفتاء

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ”احیاء العلوم“  میں ایک عبارت ہے جو آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں:

”حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو صحابہ میں بڑے زاہد اور عالم تھے ان کے حال میں منقول ہے کہ روزہ کا افطار صحبت سے کیا کرتے اور کھانا بعد کو کھاتے اور بعض اوقات مغرب پڑھنے سے بیشتر ہمبستر ہوتے ، پھر نہا کر نماز پڑھتے اور اس کی وجہ یہی تھی کہ دل عبادتِ الہی کے لیے فارغ ہو جاوے اور شیطان کا سامان اس میں سے نکل جاوے۔“

                                                   (احیاء العلوم مترجم: ج2 ص54)

اس حوالے سے معلوم کرنا ہے کہ

1:      کیا یہ بات صحیح اور مستند ہے؟

2:      افطاری میں عام معمول تو کھانے پینے سے افطار کرنا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلافِ معمول جماع سے افطاری کیوں کرتے تھے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس واقعہ کے حوالے سے چند باتیں  سمجھیں:

[1]:    احیاء العلوم کے اس اردو ترجمہ میں غلطی سے ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ“ کا نام لکھا گیا ہے جبکہ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ ان کے بیٹے ”حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما“  کا ہے ۔احیاء العلوم کے عربی نسخہ میں عبارت یہ ہے:

یُحْكٰى عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَكَانَ مِنْ زُهَّادِ الصَّحَابَةِ وَعُلَمَائِهِمْ أَنَّهٗ كَانَ يُفْطِرُ مِنَ الصَّوْمِ عَلَى الْجِمَاعِ قَبْلَ الْأَكْلِ.

(احیاء العلوم: ج1 ص696)

ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جو صحابہ میں بڑے زاہد اور عالم تھے، ان کے بارے میں منقول ہے کہ آپ روزہ صحبت سے افطار کیا کرتے تھے اور کھانا بعد میں کھاتے تھے۔

[2]:    حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ واقعہ مستند ہے۔ امام ابو القاسم سلیمان بن احمد بن ایوب الشامی الطبرانی (ت360ھ) نے اسے روایت کیا ہے:

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيْرِيْنَ  قَالَ:رُبَّمَا أَفْطَرَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَلَى الْجِمَاعِ.

(المعجم الکبیر للطبرانی: رقم الحدیث 12904)

ترجمہ:  محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما  کبھی کبھی جماع کے ذریعے روزہ افطار کرتے تھے۔

علامہ حافظ بدر الدین محمود بن احمد بن موسیٰ العینی الحنفی (ت855ھ) لکھتے ہیں:

إِسْنَادُهٗ حَسَنٌ.

(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری: ج11 ص 66)

ترجمہ: اس روایت کی سند  حسن درجہ کی ہے۔

[3]:    شریعت مطہرہ میں صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک کھانے، پینے اور جماع سے رک جانے کا نام ”روزہ“ ہے۔ جب سورج غروب ہو جائے تو جس طرح کھانے پینے سے روزہ افطار کرنا جائز ہے بالکل اسی طرح جماع سے بھی افطار کرنا جائز ہے کیونکہ جو چیز حالتِ روزہ میں حرام تھی غروبِ آفتاب کے بعد اس کا حلال ہو جانا یقینی ہے۔ اس لئے اس میں کسی قسم کا تردد نہ ہونا چاہیے۔

[4]:    سلف صالحین کی عادت رہی ہے کہ وہ روزہ ایسی چیز سے افطار فرماتے تھے جس کے حلال ہونے میں ذرہ برابر بھی شبہ نہ ہو۔ جب روزہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے رکھا ہے تو اسے افطار بھی خالص حلال اور شبہات سے پاک چیزوں سے کرنا تقویٰ اور للہیت کی دلیل ہے۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا جو عمل منقول ہے اس کی ایک وجہ یہی ہے کہ ممکن ہے آپ کو بعض مرتبہ کھانے پینے کی اشیاء میں شبہ ہو جاتا تھا  تو آپ افطار کے لئے جماع کو ترجیح دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ انسان کی بیوی اس کے لئے بلا شک و شبہ حلال ہے۔  یا یہ بھی ممکن ہے کہ بعض مرتبہ آپ کو بیوی کے پاس جانے کا شدید تقاضہ ہوتا تو  آپ رضی اللہ عنہما غروبِ آفتاب کے بعد بیوی سے صحبت کر کے روزہ افطار کر لیتے  تھے۔ یہی  توجیہات علامہ حافظ بدر الدین محمود بن احمد بن موسیٰ العینی الحنفی (ت855ھ) نے تحریر  فرمائی ہیں۔ آپ لکھتے ہیں:

واستحب القاضي حسين أن يكون فطره على ماء يتناوله بيده من النهر ونحوه حرصا على طلب الحلال للفطر لغلبة الشبهات في المآكل وروينا عن ابن عمر رضی اللہ عنہما أنه كان ربما أفطر على الجماع رواه الطبراني من رواية محمد ابن سيرين عنه وإسناده حسن وذلك يحتمل أمرين:
أحدهما أن يكون ذلك لغلبة الشهوة وإن كان الصوم يكسر الشهوة،
والثاني أن يكون لتحقق الحل من أهله وربما يردد في بعض المأكولات.

(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری: ج11 ص 66)

ترجمہ:  قاضی حسین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نہر میں سے اپنے ہاتھ سے پانی لے کر روزہ افطار کرنا مستحب ہے کیونکہ کھانے پینے میں بہت سی مشتبہ چیزیں شامل ہونے کا اندیشہ ہے، اس لیے روزہ افطار کرنے کے لیے حلال اشیاء استعمال کرنے کا حد درجہ اہتمام کرنا چاہیے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں مروی ہے کہ آپ جماع کے ذریعے روزہ افطار کرتے تھے۔ اس روایت کو امام طبرانی نے امام محمد بن سیرین سے نقل کیا ہے اور اس کی سند حسن درجہ کی ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس عمل کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں:

اول …. روزہ اگرچہ شہوت کو کم کر دیتا ہے لیکن ممکن ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما پر اس وقت اس کا تقاضا غالب ہو۔

دوم ….  بیوی سے صحبت کرنا بلا شبہ حلال ہے تو ممکن ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو اس وقت کھانے کی اشیاء میں کچھ تردد ہو (اس لیے آپ نے افطار میں اس وقت جماع کو ترجیح دی ہو)

[5]:    سوال میں جو بات ذکر کی  گئی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہما کھانے پینے کو چھوڑ کر خلافِ معمول جماع سے روزہ افطار کیا کرتے تھے، تو یہ بات درست نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہما کا یہ عمل دائمی اور مستقل نہیں تھا بلکہ  روایت کے الفاظ پہ غور کریں! الفاظ یہ ہیں:

”رُبَّمَا أَفْطَرَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا“ 

(المعجم الکبیر للطبرانی: رقم الحدیث 12904)

ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہما  کا یہ عمل کبھی کبھار ہوتا تھا۔ چونکہ  روزہ صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک کھانے، پینے اور جماع سے رکنے کا نام  ہے تو عین ممکن ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کبھی افطار کھانے سے کر لیا، کبھی پینے سے کر لیا اور کبھی جماع سے کر لیا۔ لہذا اس عمل کو مستقل اور دائمی عادت نہ سمجھا جائے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved