• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جنازہ

استفتاء

چند سوالات کے جوابات مطلوب ہیں ؛

[1]: بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا سے ناراض تھیں ۔

[2]: کیا  معتبر روایات  سے یہ بات ثابت ہے کہ حضرت فاطمہ  رضی اللہ عنہا حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ  سے راضی ہو چکی تھیں ؟۔

[3]: حضرت  فاطمہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کےبعد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ کوجنازہ کی اطلاع بھی نہیں دی اور انہیں رات کی تاریکی میں دفنا دیا ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

[1]: اھل السنۃ والجماعۃ  کا موقف یہ ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی مالی  وراثت تقسیم نہیں ہوتی  ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا  نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے  باغ فدک کا مطالبہ کیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے انبیا ء کرام  علیہم السلام کے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی ۔

اس لئے میں آپ کی ضرورتیں  تو پوری کروں گا بلکہ اپنے گھر والوں سے زیادہ آپ کا خیال رکھوں گا ،لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی وجہ سے وراثت   کی صورت نہیں ہوسکتی۔اس کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس حوالہ سے کبھی بات نہیں کی ۔

1:      علامہ محی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی رحمہ اللہ (ت676ھ) فرماتے ہیں:

قَوْله فِي هَذَا الْحَدِيث : ( فَلَمْ تُكَلِّمهُ ) يَعْنِي فِي هَذَا الْأَمْر أَوْ لِانْقِبَاضِهَا لَمْ تَطْلُب مِنْهُ حَاجَة ، وَلَا اِضْطَرَّتْ إِلَى لِقَائِهِ فَتُكَلِّمهُ ، وَلَمْ يُنْقَل قَطُّ أَنَّهُمَا اِلْتَقَيَا فَلَمْ تُسَلِّم عَلَيْهِ وَلَا كَلَّمَتْهُ ،

(شرح صحیح مسلم: ج2 ص90 )

ترجمہ :         راوی کا یہ قول فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے گفتگو نہیں کی اس کا مطلب یہ ہے کہ طلب وراثت کے سلسلہ میں کوئی گفتگو نہیں کی یا یہ کہ طبیعت منقبض ہونے کی وجہ سے ان سے کسی حاجت کا مطالبہ نہیں کیا اور نہ ان کی ملاقات کی مجبوری پیش آئی تاکہ وہ ان سے کلام کرتیں اور یہ کہیں بھی منقول نہیں ہے کہ دونوں کی ملاقات ہوئی ہو اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کو سلام نہ کیا ہو اور گفتگو نہ کی ہو ۔

2:      علامہ حافظ ابو الفضل شہاب الدین احمد بن علی ابن حجر عسقلانی الشافعی رحمہ اللہ (ت852ھ) فرماتےہیں:

فلم تكلمه في ذلك المال وكذا نقل الترمذی رحمه الله عن بعض مشايخه معنى قولي فاطمه رضي الله عنها لابي بكر وعمر لا اكلمكما في هذا الميراث

( فتح الباری شرح صحیح البخاری: ج 2 ص202)

ترجمہ:          حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اس مال کے بارے میں پھر کبھی گفتگو نہیں کی اور اسی طرح امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنے بعض مشائخ سے نقل کیا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے قول کا یہ مطلب ہے کہ اس میراث کے بارے میں ان سے کوئی گفتگو نہیں کی۔

باقی ناراضگی والی بات  نہ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے فرمان میں موجودہے اور نہ ہی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا  فرمان ہے کہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ناراض ہوں ۔

حدیث مبارک کے راوی امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے عدم تکلم کو ناراضگی سمجھ کر اپنے الفاظ میں اسے غضب وغیرہ سے تعبیر کردیا ۔جس کی وضاحت یہ ہے کہ:حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے وراثت کا مطالبہ کرنے والی روایات  مختلف کتب میں 36 مقاما ت پر ذکر کی گئی ہے۔ جن کی تفصیل یہ ہے :

1:      مصنف عبد الرزاق میں ایک مرتبہ ۔

2 :    صحیح البخاری میں 5 مرتبہ ۔

3:      طبقات ابن سعد میں 2 مرتبہ ۔

4 :     مسند ابی عوانہ اسفرائینی میں 3 مرتبہ ۔

5 :     ترمذی میں 2 مرتبہ ۔

6:      ابو داؤد میں 4 مرتبہ ۔

7 :     مسلم میں 2 مرتبہ ۔

8 :     مسند امام احمد ابن حنبل میں 5 مرتبہ ۔

9 :     سنن نسائی میں 1 مرتبہ ۔

10 :   المنتقی ٰ لابن جارود میں 1 مرتبہ ۔

11 :   سنن الطحاوی میں 1 مرتبہ ۔

12 :   مشکل الآثار میں 1 مرتبہ ۔

13 :   سنن الکبریٰ بیہقی میں6 مرتبہ ۔

14 :   تاریخ الامم والملوک لابن جریر طبری میں 1 مرتبہ ۔

15 :   فتوح البلدان لبلاذری میں 1 مرتبہ ۔

ان 36 مقامات میں  سے 11 روایات وہ ہیں جن کی سند میں ابن شہاب زہری رحمہ اللہ نہیں ہے اور 25 روایات وہ ہیں جن کی سند میں امام زہری رحمہ اللہ  موجود ہیں، 9 روایات وہ ہیں جن میں غضبت ، لم تتکلم ، وجدت  کے الفاظ نہیں ہیں اور نہ ہی ان روایات میں ناراضگی کا کوئی تذکرہ ہے ۔  اور 16 روایات وہ ہیں جن میں ” وجدت ، غضبت ، لم تتکلم ” کے الفاط منقول ہیں ، اور ان  16 مقامات میں “وجدت ، غضبت ، لم تتکلم ” کے کلمات بھی قال کے بعد ہیں یعنی” وجدت لم تتکلم غضبت” یہ امام زھری رحمہ اللہ کا مقولہ بن رہے ہیں ،امی  عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا اس کی ناقل  نہیں ہیں ۔ تو یہ کلمات امام زھری رحمہ اللہ کا ادراج ہیں ۔

[2]: اوپر ذکر کی گئی تفصیل سے معلوم ہوچکا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا  سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے راضی تھیں  ان کی آپس میں کوئی ناراضگی نہیں تھی  ،تاہم پھر بھی کوئی اس عدم تکلم کو ناراضگی نہ سمجھ لے اس خدشہ کے پیش نظر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ کے پاس جاکر ان کو راضی کیا ،اس  رضا مندی پر کئی شواھد موجود ہیں۔

1: رضا مندی کی روایت

    عن الشَّعْبِىِّ قَالَ : لَمَّا مَرِضَتْ فَاطِمَةُ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهَا أَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَقَالَ عَلِىٌّ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ يَا فَاطِمَةُ هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكِ فَقَالَتْ أَتُحِبُّ أَنْ آذَنَ لَهُ قَالَ نَعَمْ فَأَذِنَتْ لَهُ فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَتَرَضَّاهَا وَقَالَ وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُ الدَّارَ وَالْمَالَ وَالأَهْلَ وَالْعَشِيرَةَ إِلاَّ لاِبْتِغَاءِ مَرْضَاةِ اللَّهِ وَمَرْضَاةِ رَسُولِهِ وَمَرْضَاتِكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ثُمَّ تَرَضَّاهَا حَتَّى رَضِيَتْ.

(السنن الکبریٰ للبیہقی : ج6 ص301 رقم الحدیث 13113)

ترجمہ:          حضرت شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جب حضرت فاطمہ بیمار ہوئیں تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ کے پاس آئے۔ انہوں نے اجازت چاہی تو حضرت علی نے کہا ابوبکر دروازہ پر ہیں اگر تم چاہو تو ان کی اجازت دے دو۔ حضرت فاطمہ نے کہا کہ تم (علی) اس کو محبوب رکھتے ہو۔ علی نے فرمایا۔ ہاں پس حضرت ابوبکر داخل ہوئے اور فاطمہ حضرت ابوبکر سے راضی ہوگئیں۔

2: حضرت اسماء بنت عمیس کا سیدہ  فاطمہ رضی اللہ عنہا   کی خدمت کرنا:

حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنی زوجہ محترمہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی ﷲ عنہا کو جناب سیدہ کی خدمت کے لئے مقرر کیا تھا اور حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے سیدہ کی تیمارداری کی تمام خدمات انجام دی تھیں ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وفات کے قریب انہیں غسل دینے، کفن پہنانے اور جنازہ تیار کرنے کی وصیت بھی فرمائی تھی:

عَنْ عَوْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْهَاشِمِىِّ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ: أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوْصَتْ أَنْ يُغَسِّلَهَا زَوْجُهَا عَلِىُّ بْنُ أَبِى طَالِبٍ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ فَغَسَّلَهَا هُوَ وَأَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ.

(السنن الکبری للبیہقی : ج3 ص394  رقم الحدیث6906)

ترجمہ:          حضرت اسماء بنت عمیس رضی ﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وصیت کی انہیں ان کے شوہر حضرت علی رضی اللہ عنہ غسل دیں چنانچہ حضرت علی اور حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے سیدہ کو غسل دیا۔

فائدہ:  حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ غسل دینے میں صرف اس حد تک شریک تھے کہ پانی وغیرہ کا انتظام انہوں نے فرمایا ۔

[3]: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جنازہ کس نے پڑھایا؟اس کے بارے میں روایات مختلف ہیں ۔

اس والے سے طبقات ابنِ سعد میں امام شعبی و امام نخعی رحمھما اللہ سے دو روایتیں مروی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز جنازہ کی امامت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے فرمائی۔

1:          عن الشعبی قال صلی علیہا ابوبکر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ.

(الطبقات لابن سعد: ج8ص19 )

ترجمہ: امام شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا :کہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی۔

 2:         عن ابراہیم قال صلی ابوبکر الصدیق علی فاطمۃ بنت رسول اﷲ وکبر علیہا اربعاً

(الطبقات لابن سعد: ج8ص19 )

ترجمہ:          حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا :کہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے حضرت فاطمہ بنت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہوں نے نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہیں۔

ان روایات سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا صرف نماز جنازہ میں شریک ہونا ہی ثابت نہیں ہوتا بلکہ امام بننا بھی ثابت  ہوتا ہے ۔

باقی یہ کہنا کہ  حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جنازہ میں شریک نہیں ہوئے یہ بات  نقل کے بھی خلاف ہے اور عقل کے بھی ۔

نقل کے تو اس لئے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی  وفات کے بعد حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کا  آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے خاندان سے زیادہ خیال رکھنا ،ا ن کی ہر قسم کی ضرورتوں کو پورا کرنا ،آپ کی اہلیہ کا مسلسل خاتون جنت کی عیادت کرنا ،غسل تجہیز وتکفین میں شریک ہونا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جنازہ کا امام بننا معتبر روایات سے ثابت ہے ۔

او رعقل کے اس لئے خلاف ہے کہ  یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک بندہ خاتون جنت سے اس حد تک عقیدت رکھتا ہو بوقت وفات ان کی اہلیہ بھی وہاں موجود ہو اور پھر جنازہ میں شرکت نہ ہو ایں خیال است ومحال است وجنوں ۔

فائدہ: مسلم شریف کی روایت کے مطابق نماز جنازہ کی امامت حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمائی ۔

صلی علیھا علی رضی اللہ عنہ

(صحیح مسلم: ج2ص91)

ایک قول کے مطابق نمازجنازہ  حضرت  عباس رضی اﷲ عنہ نے پڑھایا”صلی علیھا العباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ“

(اکمال: ص213)

تنبیہ:

بعض احادیث میں ہے کہ حضرت  علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے  انتقال کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ  کو جنازہ کی خبر نہیں دی ،اس سے بعض لوگوں نے سمجھ لیا شاید ان حضرات کی آپس میں کوئی رنجش تھی۔اس بارے میں چند باتیں سمجھنے کی ہیں ۔

1:      اوپر تفصیل گزر چکی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بیماری کے ایام ،رحلت اور غسل وغیرہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اہلیہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا شریک تھیں ،ممکن ہے حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے اس وجہ سے حضرت ابوبکر کو خبر نہ دی ہو کہ آپ کی اہلیہ خود بتادے گی ۔

2:      اس خبر نہ دینے کی وجہ ناراضگی نہیں بلکہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وہ وصیت تھی جس سے آپ کی شرم وحیا واضح طور پہ نظر آتی ہے وہ یہ کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وصیت فرمائی تھی کہ میرا جنازہ رات کے وقت ادا کرنا اور میری وفات کی اطلاع لوگوں کو نہ کرنا تاکہ  جس چار پائی پر میراجنازہ ہو اس پر بھی کسی کی نگاہ نہ پڑے ،اس لئے حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے کسی کو بھی خبر نہ کی۔

3:        یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ نماز جنازہ اداکرنا فرض کفایہ ہے فرض عین نہیں ،اس لئے نہ تو اس کی ہر کسی کو خبر دینا ضروری ہے اور نہ ہی ہر مسلمان کی شرکت ضروری ہے۔

الحاصل:حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایسی باتیں کرنا جو خلاف حقیقت ہوں یا ان کی آپس میں ناراضگی کے افسانے بیان کرنا اھل السنۃ والجماعۃ کا شعار نہیں ۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved