- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
آپ نے اپنی کتاب ”مسائل قربانی“میں حرام مغز کا حکم بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
”جانور کی ریڑھ کی ہڈی کے اندر سفید رنگ کا گودا لمبے دھاگے کی شکل میں ہوتا ہے جسے عربی میں ”نُخَاعُ الصُّلْبِ“ اور اردو میں ”حرام مغز“ کہتے ہیں۔ عوام الناس نے اس کے نام کے ساتھ ”حرام“ کا لفظ ہونے کی وجہ سے اس کو حرام سمجھ لیا ہے حالانکہ یہ بات درست نہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ حرام مغز کا کھانا حرام یا مکروہ نہیں بلکہ جائز ہے۔“
(مسائل قربانی: ص162)
جبکہ علامہ حافظ الدین ابو البرکات عبد اللہ بن احمد بن محمود النسفی الحنفی (ت710ھ) نے اسے مکروہ لکھا ہے۔ آپ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
كُرِهَ مِنَ الشَّاةِ ؛ الْحَيَاءُ وَالْخُصْيَةُ وَالْغُدَّةُ وَالْمَثَانَةُ وَالْمَرَارَةُ وَالدَّمُ الْمَسْفُوحُ وَالذَّكَرُ وَنُخَاعُ الصُّلْبُ.
(کنز الدقائق: ص522 مسائل شتیٰ. طبع مکتبہ رحمانیہ لاہور)
ترجمہ: حلال جانور کے یہ اعضاء مکروہ ہیں؛ مادہ جانور کی پیشاب گاہ، خصیتین ، غدود، مثانہ ، پتہ، بہتا ہوا خون، نر جانورکی پیشاب گاہ اور حرام مغز۔
اسی طرح علامہ احمد بن محمد بن اسماعیل الطحطاوی الحنفی رحمہ اللہ (ت1231ھ) نے درمختار کے حاشیہ میں بھی اسے مکروہ اعضاء میں شمار کیا ہے۔ علامہ طحطاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وَزِیْدَ نُخَاعُ الصُّلْبِ.
(حاشیۃ الطحطاوی الدر المختار: ج4 ص360 مسائل شتیٰ)
ترجمہ: حرام مغز کو بھی مکروہ اعضاء میں شمار کیا گیا ہے۔
عرض ہے کہ اس حوالے سے وضاحت فرمائیں کہ عوام الناس کس موقف پہ عمل کریں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
حرام مغز کو مکروہِ تحریمی اعضاء میں شمار کرنا درست نہیں بلکہ صحیح بات وہی ہے جو ہم نے اپنی کتاب میں بیان کی ہے کہ حرام مغز کا کھانا جائز اور درست ہے۔
ہمارے موقف کی بنیاد درج ذیل امور ہیں:
[1]: فقہائے کرام نے جن اعضاء کے کھانے کو مکروہ تحریمی لکھا ہے وہ سات اعضاء ہیں، ان میں ”حرام مغز“ شامل نہیں کیا۔ کتبِ فقہ میں کتاب الذبائح کے عنوان میں یہ تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔
[2]: فقہائے کرام نے جہاں ذبح کے احکام ذکر کیے ہیں وہاں یہ مسئلہ بھی بیان کیا ہے کہ جانور کو ذبح کرتے وقت یا اس کے ٹھنڈا ہونے سے پہلے؛ حرام مغز تک چھری چلانا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے۔
چنانچہ علامہ محمد بن مَرامُوْز المعروف ملا خسرو الحنفی رحمہ اللہ(ت885ھ) لکھتے ہیں:
(و) کرہ (النخع) ای الذبح الشدید حتی یبلغ النخاع وھو بالفارسیۃ “حرام مغز”.
(درر الحکام فی شرح غرر الاحکام لملا خسرو: ج1 ص277 کتاب الذبائح)
ترجمہ: جانور کو سختی سے ذبح کرنا مکروہ ہے (جس کی صورت یہ ہے)کہ ذبح کرتے کرتے حرام مغز تک پہنچ جائیں۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
وَكُرِهَ النَّخْعُ وَهُوَ أَنْ يَبْلُغَ بِالسِّكِّينِ النُّخَاعَ وَتُؤْكَلُ الذَّبِيحَةُ وَالنُّخَاعُ عِرْقٌ أَبْيَضُ فِي عَظْمِ الرَّقَبَةِ ….. وَقِيلَ أَنْ يَكْسِرَ عُنُقَهُ قَبْلَ أَنْ يَسْكُنَ مِنَ الِاضْطِرَابِ وَكُلُّ ذَلِكَ مَكْرُوهٌ لِأَنَّهُ تَعْذِيبُ الْحَيَوَانِ بِلَا ضَرُورَةٍ.
(فتاویٰ عالمگیری: ج5 ص288)
ترجمہ: جانور کو اس طرح ذبح کرنا کہ چھری حرام مغز تک پہنچ جائے مکروہ ہے البتہ ذبیحہ (حلال ہے، اسے) کھانا درست ہے۔ ”حرام مغز“ گردن کی ہڈی میں پایا جانے والا ایک دھاگا ہے۔ “کرہ النخع” کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ جانور کے ٹھنڈا ہونے سے پہلے اس کی گردن کاٹ ڈالی جائے۔ یہ تمام امور مکروہ ہیں کیونکہ یہ جانور کو بلا ضرورت تکلیف دینا ہے۔
حرام مغز تک چھری چلاتے ہوئے اسے کاٹنے سے جانور کو تکلیف ہوتی ہے اور جانور کو بلا وجہ تکلیف دینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔ غالباً اسی وجہ سے اس کا نام”حرام مغز“ مشہور ہو گیا ہے لیکن اس وجہ سے ذبیحہ حرام یا مکروہ نہیں ہو جاتا اور نہ ہی حرام مغز کا کھانا حرام ہوتا ہے۔ ہماری رائے میں عین ممکن ہے کہ جن حضرات نے ”حرام مغز“ کے مکروہ ہونے کی بات کی ہے انہیں اس قسم کی عبارت ”وکرہ النخع“ سے تسامح ہوا ہو اور انہوں نے حرام مغز کو مکروہ یا ممنوع لکھ دیا ہو جبکہ واقعہ اس کے خلاف ہے کہ یہ فعل مکروہ ہے، حرام مغز مکروہ یا حرام نہیں!
[3]: ہمارے بعض اکابر اور بعض دار الافتاء نے حرام مغز کے کھانے کو حلال لکھا ہے اور اسے مکروہ اور حرام کہنے والوں کی تردید کی ہے۔ چند حوالہ جات ملاحظہ ہوں:
مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ (ت1372 ھ) لکھتے ہیں:
”حرام مغز ؛ نہ حرام ہے نہ مکروہ، یونہی بے چارہ بدنام ہو گیا۔“
(کفایت المفتی: ج8ص262)
شیخ الاسلام مولانا ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ (ت1394ھ) لکھتے ہیں:
”بر حرمتِ مغز حرام ہیچ دلیل قائم نشد واجزاء سبع از شاۃ مکروہ داشتہ اند دران ہم مغز حرام داخل نیست ، پس خوردنی آن حلال ست۔“
(امداد الاحکام: ج 4ص312)
ترجمہ: حرام مغز کی حرمت پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ حلال جانور کے جو سات اجزاء مکروہ ہیں حرام مغز ؛ اُن میں شامل نہیں، اس لیے اس کا کھانا جائز ہے۔
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی کے فتویٰ میں ہے:
”حرام مغز حرام نہیں ہے۔“
(فتوی نمبر : 144001200233)
سوال میں ذکر کردہ عبارات کی توضیح:
سوال میں جو دو عبارات پیش کی گئی ہیں ان کی وضاحت درج ذیل ہے:
کنز الدقائق کی جو عبارت نقل کی گئی ہے اس میں ”نُخَاعُ الصُّلْبِ“ کا ذکر بھی کیا گیا ہے لیکن کنز الدقائق کی جو مطبوع شروح موجود ہیں ان میں ذکر کیے گئے متن میں ”نُخَاعُ الصُّلْبِ“ کا ذکر نہیں ہے۔ کنز الدقائق کے محشی مولانا حبیب الرحمٰن رحمہ اللہ نے بھی اس بات کی تصریح کی ہے۔ آپ رحمہ اللہ متن میں درج الفاظ ”نخاع الصلب“ پر یہ حاشیہ لکھتے ہیں:
لم یوجد فی جمیع الشروح من المتن انما ھو فی النسخ المطبوعۃ ولم یذکرہ صاحب الدر المختار ایضاً فیما عددہ من الاشیاء المکروہۃ.
(حاشیۃ کنز الدقائق: ص522)
ترجمہ: ”حرام مغز“ کا ذکر تمام شروح میں موجود متن میں نہیں ہے، یہ صرف مطبوع نسخوں میں ملتا ہے۔ صاحبِ در مختار (علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی الحنفی، متوفیٰ1088ھ) نے بھی جب مکروہ اشیاء کا ذکر کیا ہے تو ان میں ”حرام مغز“ کو شمار نہیں کیا۔
شارحین نے ان الفاظ (نخاع الصلب) کو اپنی شروح میں جگہ نہیں دی جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ الفاظ قابلِ اعتناء اورلائقِ اعتبار نہیں ہیں۔ لہذا اس عبارت سے استدلال کرتے ہوئے حرام مغز کو؛ حرام یا مکروہ کہنا درست نہیں۔
علامہ طحطاوی رحمہ اللہ نے بھی جب حرام مغز کو مکروہ اعضاء میں شمار کیا تو اس کی کوئی دلیل پیش نہیں کی۔ لہذا محض علامہ طحطاوی رحمہ اللہ کی عبارت کو لے کر حرام مغز کے مکروہِ تحریمی ہونے کا قول کرنا درست نہ ہو گا۔
تنبیہ نمبر1:
ہمارے بعض اردو فتاویٰ جات (فتاویٰ رشیدیہ، فتاویٰ محمودیہ) میں حرام مغر کو ممنوع لکھا گیا ہے۔ اس حوالے سے عرض ہے:
فتاویٰ رشیدیہ میں ماخذ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
فتاویٰ محمودیہ میں اس کا ماخذ طحطاوی کی عبارت کو بتایا گیا ہے لیکن ظاہر ہے کہ سابقہ امور کے پیشِ نظر محض طحطاوی کی عبارت کی بنا پر حرام مغز کو مکروہِ تحریمی کہنا محلِ نظر ہے، قابلِ اطمینان نہیں ۔
تنبیہ نمبر2:
بطورِ تطبیق ایک توجیہ یہ بھی کی جا سکتی ہے کہ بعض اکابرین کی عبارات میں حرام مغز کو جو ”مکروہ“ لکھا گیا ہے تو اس سے مراد کراہتِ طبعی ہو، کراہتِ شرعی نہ ہو۔اس توجیہ کی رو سے ان اکابرین کی عبارات؛ ہمارے موقف کے متضاد نہیں ۔کیونکہ ممکن ہے کہ ایک چیز شرعاً جائز اور حلال ہو البتہ بعض طبائع کے موافق نہ ہو اور وہ اسے مکروہ سمجھتی ہوں۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved