- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ غیر مقلدین عموماً اور انجینئر مرزا محمد علی خصوصاً صحیح مسلم میں موجود حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی ترک رفع الیدین والی روایت پر اعتراض کرتے ہوئے کچھ باتیں کہتے ہیں جس سے عوام میں شبہ ہوتا ہے۔ ان لوگوں کی باتوں کا خلاصہ یہ پانچ چیزیں ہیں۔ ان کا جواب عنایت فرمائیں تاکہ عوام ان کے شبہات سے بچ سکے۔ جزاکم اللہ خیراً واحسن الجزاء
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
آسانی کی خاطر ہر شبہ کو الگ الگ ذکر کر کے جواب دیا جاتا ہے۔
شبہ نمبر 1:
امام مسلم ایک ہی جزو کے تعلق سے روایت ایک کے بعد ایک بیان کرتے ہیں اور امام مسلم کا یہ معمول ہے۔
جواب:
اولاً….. یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ امام مسلم رحمۃ للہ علیہ کا معمول یہ ہے کہ آپ جن روایات کے مضمون کو قدرِ مششترک سمجھتے ہیں ان کے مختلف طرق کو ایک جگہ جمع کر دیتے ہیں۔ اس مقام پر آپ کا مقصود نماز میں سکون کرنے، بے جا حرکات سے اجتناب اور صفوں کی درستی کے متعلق روایات کو جمع کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے آپ نے دو طریق ذکر کیے ہیں:
- طریقِ تمیم بن طرفہ
- طریقِ عبید اللہ بن قبطیہ
تمیم بن طرفہ کے طریق میں ” اُسْكُنُوْا فِي الصَّلَاةِ “ (نماز میں سکون کرو!) کے الفاظ سے رکوع و سجود کا رفع یدین منع ثابت ہوتا ہے (فقہاء ومحدثین اور دیگر محققین کا استدلال آگے آ رہا ہے) ، عبید اللہ بن قبطیہ کے طریق سے سلام کے وقت ہاتھوں کا اشارہ ممنوع قرار پاتا ہے اور ”أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ“ (تم ایسے صف کیوں نہیں بناتے جس طرح فرشتے صفیں بناتے ہیں) سے صفوں کی درستی ثابت ہوتی ہے۔
ثانیاً….. حدیث جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو کئی فقہاء و محدثین اور محققین نے ترک رفع یدین کی دلیل بنایا ہے۔ ان کے نام یہ ہیں:
1: امام ابوالحسین احمد بن محمد بن احمد القدوری البغدادی الحنفی (ت428ھ) (التجرید: ج2ص519)
2: شمس الائمہ امام محمد بن احمد بن ابی سہل السرخسی (ت483 ھ) (المبسوط للسرخسی: ج1 ص25)
3: علامہ علاء الدین ابو بكر بن مسعود بن احمد الکاسانی الحنفی (ت587ھ) (بدائع الصنائع للکاسانی: ج1 ص207)
4: امام ابو محمد علی بن زکریا المَنْبِجِی الحنفی (ت686ھ) (اللباب فی الجمع بین السنۃ والکتاب: ج1ص256)
5: علامہ فخر الدین عثمان بن علی زیلعی الحنفی (ت743ھ) (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق: ج1 ص311)
6: امام جمال الدین ابو محمد عبد الله بن یوسف بن محمد الزیلعی الحنفی (ت 762ھ) (نصب الرایۃ فی تخریج احادیث الہدایۃ: ج1ص472)
7: حافظ بدر الدین محمود بن احمد بن موسیٰ العینی الحنفی (ت855ھ) (شرح سنن ابی داؤد: ج3ص29)
8: علامہ زین الدین بن ابراہیم بن محمد المعروف ابن نجیم الحنفی (ت970ھ) (البحر الرائق شرح کنز الدقائق: ج1 ص341)
9: ملا علی بن سلطان محمد القاری الھروی الحنفی (ت1014ھ) (فتح باب العنایۃ: ج1ص258)
10: علامہ شیخ محمد ہاشم سندھی (ت1174) (کشف الرین)
11: حضرت مولانا محمد یعقوب ناناتوی (ت1302ھ) (اعلاء السنن للعثمانی: ج3ص56 )
12: شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی(ت1369ھ) (فتح الملہم: ج3 ص317)
13: شیخ الاسلام مولانا ظفر احمد عثمانی (ت1394ھ) (اعلاء السنن للعثمانی: ج3ص56)
14: مولانا الشیخ محمد عبد اللہ بن مسلم البہلوی (ت1398ھ) (ادلۃ الحنفیۃ:ص167)
15: شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی (ت1402ھ) (اوجز المسالک: ج 2ص66)
16: رئیس المناظرین حجۃ اللہ فی الارض مولانا محمد امین صفدر اکاڑوی (ت1421ھ) (تجلیات صفدر: ج2، ص313)
17: مناظر اسلام حضرت مولانا حبیب اللہ ڈیروی (نور الصباح: ج1 ص76)
شبہ نمبر 2:
اس روایت میں رکوع والے رفع الیدین کا بھی کوئی تذکرہ نہیں۔
جواب:
اس روایت کے الفاظ ” اُسْكُنُوْا فِي الصَّلَاةِ “ (نماز میں سکون اختیار کرو!) سے رکوع اور سجود والے رفع یدین کا ترک ثابت ہوتا ہے۔ علامہ بدر الدین محمود بن احمد العینی اور امام جمال الدین ابو محمد عبد الله بن یوسف الزیلعی نے اس حد یث کے متعلق تصریح کی ہے:
انما یقال ذلک لمن یر فع یدیہ فی اثناء الصلوۃ وھو حا لۃ الرکوع او السجود ونحو ذلک. (شرح سنن ابی داؤد للعینی: ج3ص297، نصب الرا یۃ: ج1ص472)
ترجمہ: یہ الفاظ (کہ نماز میں سکون اختیار کرو!)اس شخص کو کہے جاتے ہیں جو دوران نماز رفع یدین کر رہا ہو اور یہ حالت رکوع یا سجود وغیرہ کی ہوتی ہے۔
شبہ نمبر 3:
اس سے پھر شروع نماز کے رفع الیدین کو بھی ترک کرنا لازم ہو گا۔
جواب:
اس سے شروع والے رفع یدین کا ترک لازم نہیں آتا کیونکہ حدیث کے الفاظ ہیں:
” اُسْكُنُوْا فِي الصَّلَاةِ “ (نماز میں سکون اختیار کرو!)
یہاں لفظ ”فِي الصَّلَاةِ“ ہے جس کا معنی ”نماز میں سکون“ ہے اور شروع والے رفع یدین کے متعلق ”عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاۃِ“ (نماز کی ابتداء کے وقت) وغیرہ جیسے الفاظ مروی ہوتے ہیں۔ ابتداءِ صلوٰۃ کے وقت رفع یدین اور نماز کے اندر رفع یدین میں واضح فرق ہے، اس لیے ” اُسْكُنُوْا فِي الصَّلَاةِ “ کے الفاظ سے شروع والے رفع یدین کا منع ثابت نہیں ہوتا۔
شبہ نمبر 4:
یہ لوگ امام دار قطنی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے ایک خواب بھی بیان کرتے ہیں کہ ان کے استاذ نے ایک خواب دیکھا۔ اس خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع الیدین کے ساتھ نماز پڑھتے دیکھا۔
جواب:
غیر مقلدین اور انجینئر مرزا محمد علی صاحب بزرگوں کے خوابوں کے بارے میں ایسی سخت اور مضحکہ خیز باتیں کرتے رہتے ہیں کہ الامان و الحفیظ اور اب یہاں خواب سے ایک شرعی مسئلہ کا اثبات کر رہے ہیں! بھلا ان کا یہ استدلال کہاں درست ہو سکتا ہے؟! نیز یہ بات بھی واضح رہے کہ امتی کے خواب سے شرعی مسئلہ کا اثبات نہیں ہوتا بلکہ دلیل سے ہوتاہے۔
شبہ نمبر 5:
یہ لوگ مفتی محمدتقی عثمانی مدظلہم العالی کا ایک حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا ہے کہ صحیح مسلم کی اس روایت کو ترک رفع یدین پر محمول کرنا ٹھیک نہیں ہے۔
جواب:
حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ نے ترک رفع یدین کے دلائل پر مشتمل ایک تحریر کی تصدیق کرتے ہوئے” الجواب صحیح“ لکھاہے۔ ان دلائل میں یہی حدیث جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ موجود ہے۔ انجینئر مرزا محمد علی صاحب جن کو اپنا استاذ مانتے ہیں وہی زبیر علی زئی صاحب اپنے رسالہ ”الحدیث“ میں ان الفاظ میں اس حقیقت کا اقرار کرتے ہیں:

ماہنامہ ”الحدیث “ کے اس شمارہ میں ص 19 پر دلیل نمبر 13 کے تحت حدیث جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ موجود ہے جس سے ترکِ رفع یدین پر استدلال کیا گیا ہے۔
اب انجینئر مرزا محمد علی صاحب کو اور غیر مقلدین کو بھی مان لینا چاہیے کہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ اس روایت کو مستدل بنانے سے اتفاق کرتے ہیں۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved