- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے ہر ماہ جی پی فنڈ (General Provident Fund) کی مد میں مخصوص رقم کاٹی جاتی ہے۔ ہمارے ادارے کی پالیسی کے مطابق تین سال تک تنخواہ کے ایک تہائی حصہ کی کٹوتی ہوتی ہے اور مزید پانچ سال تک تنخواہ کے 21 فیصد حصہ کی کٹوتی ہوتی ہے۔ یہ رقم ملازم کو فی الوقت نہیں ملتی بلکہ ادارہ کی تحویل میں جمع ہوتی رہتی ہے اور ریٹائر منٹ کے بعد ملتی ہے۔ اس رقم پر زکوٰۃ کی کیا صورت ہو گی؟ کیا ہر سال کا حساب کر کے جتنی رقم کی کٹوتی ہو چکی ہے اتنی رقم کی زکوٰۃ ساتھ ساتھ ادا کرنا لازم ہےیا جب یہ رقم ملے گی تب اس کی زکوٰۃ لازم ہو گی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
کسی بھی مال پر زکوٰۃ واجب ہونے کے لیے اس مال پر کامل ملکیت کا قائم ہونا ضروری ہے۔ اگر مال پر ملکیت قائم نہ ہو یا قائم ہو لیکن ناقص ہو تو اب اس پر زکوٰۃ واجب نہیں۔
جی پی فنڈ چونکہ ابھی ملازم کے قبضے میں آیا ہی نہیں اس لیے اس پر ملازم کی ملکیت قائم ہی نہیں ہوئی بلکہ فنڈ کی یہ رقم ابھی ادارے کے قبضے میں ہے۔ ہاں! اس فنڈ پر ملازم کا استحقاقِ مِلک ضرور ہے لیکن زکوٰۃ واجب ہونے کے لیے یہ کافی نہیں۔ اس لیے جی پی فنڈ پر زکوٰۃ واجب نہیں۔ جب یہ فنڈ ملازم کے قبضے میں آ جائے گا اور زکوٰۃ کا سال پورا ہو گا تب اس موجود رقم پر زکوٰۃ واجب ہو گی۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved