- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک شخص کی کمر میں تکلیف ہے۔ یہ شخص جس ڈاکٹر سے علاج کرواتا ہے اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ کمر پر ایک پٹی لگا دیتا ہے جو پندرہ دن بعد کھولنی ہوتی ہے۔ پٹی ڈاکٹر خود لگاتا ہے اور اس طرح مضبوطی سے لگاتا ہے کہ مریض اسے کھول نہیں سکتا بلکہ ڈاکٹر خود ہی اسے کھولتا ہے۔پٹی لگانے سے نسیں ڈھیلی ہوتی ہیں اور مریض کو فائدہ ہوتا ہے۔
پوچھنا یہ ہے کہ اس طریقہ علاج میں پندرہ دنوں تک پٹی کو کھولنا نہیں ہوتا تو اس دوران غسلِ جنابت کا کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر اس طریقۂ علاج سے مریض کو فائدہ ہوتا ہو تو پٹی لگی رہنے دی جائے اور غسلِ جنابت کرنے کی صورت میں اس پر مسح کر لیا جائے۔ اس کے لیے یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ کمر کے جتنے حصہ پر پٹی لگی ہوئی ہو اس پر پلاسٹک لگا دیا جائے اور کمر کے باقی ماندہ حصہ کو دھو لیا جائے۔ بعد میں پلاسٹک ہٹا کر پٹی پر بھیگا ہوا ہاتھ پھیر لیا جائے تو واجب غسل ادا ہو جائے گا۔
علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:
رَجُلٌ بِهٖ رَمَدٌ فَدَاوَاهُ وَأُمِرَ أَنْ لَا يَغْسِلَ فَهُوَ كَالْجَبِيرَةِ.
(رد المحتار مع الدر المختار: ج2 ص355)
ترجمہ: ایک شخص کی آنکھ دکھتی ہو اور وہ اس کا علاج کروا رہا ہو۔ علاج کے لیے اسے ہدایت کی گئی کہ اسے دھونا نہیں تو اس کا حکم جبیرہ کا ہے (کہ اتنی جگہ کو دھونے کے بجائے اس پر مسح کرے)
© Copyright 2025, All Rights Reserved