- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
غسلِ جنابت کرتے وقت اگر کچھ قطرے بالٹی میں گر جائیں تو کیا اس سے وہ پانی پاک ہی رہے گا اور باقی غسل پورا ہو جائے گا یا وہ پانی ناپاک ہو جائے گا، اور نئے پانی سے غسل کرنا لازم ہو گا؟ براہِ کرم راہنمائی کیجیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جسم سے ظاہری نجاست دھوتے وقت اگر اس نجاست والے پانی کے قطرے بالٹی میں چلے جائیں تو اس سے وہ سارا پانی ناپاک ہو جائے گا، وہ پانی گرا کر نئے پانی سے غسل کرنا لازم ہو گا۔اگر نجاست زائل کرنے کے بعد پانی بہاتے وقت پانی کی کچھ چھینٹیں گر جائیں تو اس سے باقی پانی پاک ہی رہتا ہے، ناپاک نہیں ہوتا، اسی پانی سے غسل مکمل کر لیا جائے، نیا پانی لینا لازم نہیں۔ حضرت ابراہیم النخعی رحمہ اللہ روایت فرماتے ہیں :
“عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ فِي الرَّجُلِ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ ، فَيَنْتَضِحُ فِي إنَائِهِ مِنْ غُسْلِهِ ، فَقَالَ : لاَ بَأْسَ بِهِ”(مصنَّف ابن ابی شیبہ: حدیث نمبر789)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے آدمی کے بارے پوچھا گیا جو غسلِ جنابت کر رہا ہو اور اس دوران پانی کی کچھ چھینٹیں برتن(بالٹی یا ٹب) میں گر جائیں تو ؟ (وہ برتن والا پانی پاک رہے گا یا ناپاک ہو جائے گا؟) آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس پانی کے ساتھ غسل کرنے میں کوئی حرج نہیں، (وہ پاک رہے گا)واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved