• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

غیر حنفی امام اگر وتر پڑھائے تو حنفی مقتدی کیا کرے؟

استفتاء

میں دوبئی میں ایک کمپنی میں کام کر رہا ہوں۔ یہاں کی مساجد میں نماز وتر دو رکعت  کے بعد سلام پھیر کر  تیسری رکعت الگ پڑھائی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں تینوں رکعت ایک ہی نیت کے ساتھ  دو تشہد اور ایک سلام کے ساتھ  مکمل کی جاتی ہیں۔ اب ہمیں یہاں ان مساجد میں باجماعت وتر  پڑھتے ہوئے نیت کیسے کرنی چاہیے؟ نیز کیا ان کو الگ الگ پڑھنے کا طریقہ فقہی اختلاف کی وجہ سے ہے ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

وتر کی ادائیگی کے طریقہ میں یہ فرق فقہی اختلاف کی وجہ سے ہے۔ دیگر ائمہ کے نزدیک وتر میں دو رکعات پڑھ کر سلام پھیر دیا جاتا ہے اور ایک رکعت الگ سے پڑھی جاتی ہے جبکہ ہم احناف کے ہاں وتر کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ تینوں رکعات دو قعدوں کے ساتھ اکٹھی پڑھی جاتی ہیں اور آخر میں سلام پھیر دیا جاتا ہے۔ چونکہ وتر کی ادائیگی کے طریقہ میں فقہی اختلاف موجود ہے اس لیے آپ ان ائمہ کے پیچھے وتر نہ پڑھیں بلکہ الگ اپنے طریقے سے پڑھ لیں۔ اگر الگ پڑھنا ممکن نہ ہو سکے تو اس وقت تو ان ائمہ کے پیچھے پڑھ لیں لیکن بعد میں ان کا اعادہ ضرور کر لیں۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved