- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
فضائل اعمال میں چند واقعات و عبارات موجود ہیں، کسی نے ان پر اعتراض اٹھایا ہے کہ یہ واقعات و عبارات سمجھ سے بالا ہیں ، اس لیے ان کی کوئی حقیقت نہیں۔واقعات یہ ہیں:
(1): ایک سید صاحب کا قصہ لکھا ہے کہ بارہ دن تک ایک ہی وضو سے ساری نمازیں پڑھیں اور پندرہ برس مسلسل لیٹنے کی نوبت نہیں آئی ۔کئی کئی دن ایسے گزر جاتے کہ کوئی چیز چکھنے کی نوبت نہ آتی ۔
(فضائل اعمال ‘ فضائل نماز باب سوم ص360)
تبلیغی بزرگوں کو تو پندرہ (15)برس لیٹنے کی نوبت نہیں آتی جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بہتان باندھا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غلبہ نیند سے گرنے کا اندیشہ ہوتا تھا، العیاذ باللہ۔ فضائل اعمال میں یوں لکھا ہے:
ابتداءمیں حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے کو رسی سے باندھ لیا کرتے کہ نیند کے غلبہ سے گر نہ جائیں ۔
(فضائل اعمال ‘ فضائل نماز باب سوم ص374)
(2): ابن الکاتب کا معمول تھا کہ روزانہ آٹھ قرآن شریف پڑھتے تھے ۔
(فضائل اعمال ‘ فضائل قرآن ‘تلاوت کرنیوالوں کے واقعات ص 254)
(3): حضرت زین العابدین روزانہ ایک ہزار رکعت پڑھتے تھے ۔
(فضائل اعمال فضائل نماز باب سوم ص378)
کیا اسلام اس طرح کے بڑے بڑے ریکارڈ بنانے کا دین ہے ؟
(4): ایک بزرگ کا قصہ لکھا ہے کہ وہ روزانہ ایک ہزار رکعت کھڑے ہو کر پڑھتے جب پاؤں رہ جاتے یعنی کھڑے ہونے سے عاجز ہو جاتے تو ایک ہزار رکعت بیٹھ کر پڑھتے۔
(فضائل صدقات حصہ دوم ص588)
اگر مولانا زکریا نے یہ واقعات اس لیے لکھے ہیں کہ ان کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کرلیا جائے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، لیکن اگر شریعت سازی کی گئی ہے تو ہم دوزانو ہو کر پڑھنے اور سننے والوں سے گذارش کرتے ہیں کہ شریعت کا اتنی دیدہ دلیری سے مذاق نہ اڑائیں اور اللہ سے ڈریں ۔
(5): شیخ عبدالواحد مشہور صوفیاءمیں ہیں، انہوں نے خواب میں نہایت خوبصورت لڑکی دیکھی جس نے کہا میری طلب میں کوشش کر میں تیری طلب میں ہوں تب انہوں نے چالیس برس تک صبح کی نماز عشاءکے وضو سے پڑھی۔
(فضائل اعما ل فضائل نماز باب سوم ص 356)
اس سے ثابت ہوا کہ یہ بات غلط ہے کہ صوفیاءصرف اللہ کی رضا کے لیے عبادت کرتے ہیں بلکہ خوب صورت لڑکیوں کے لیے کرتے ہیں۔
از راہِ کرم ان اعتراضات کا تشفی بخش جواب مرحمت فرمادیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس حوالے سے چار باتیں ذہن نشین کر لیجیے:
پہلی بات:
یہ ضروری نہیں کہ کائنات میں وقوع پذیر سبھی واقعات و عجائبات تک انسانی فہم کی رسائی ہو، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رونما ہونے والے بہت سے امور ایسے ہیں جو انسانی فہم کے دائرے سے خارج ہیں اورانسانی عقل و شعور ان کا ادراک کر نے سے عاجز و قاصر ہوتےہیں۔ اس لیے کسی چیز کی تردید یا انکار ؛ محض اس وجہ سے کرنا کہ یہ سمجھ سے بالا اور فہم سے اعلیٰ ہے، یہ طرزِ عمل سراسر غلط ہے۔
لہٰذا یہ قاعدہ ہمیشہ پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ :
”کسی چیز کا سمجھ میں نہ آنا اس چیز کے باطل اور غلط ہونے کی دلیل ہرگز نہیں ہے۔“
سوال نامہ میں درج عبارات کے انکار کی بنیادی وجہ یہی بنی ہے کہ معترض نے اپنی سمجھ کے پیمانے میں ان واقعات کو پرکھنے کی کوشش کی ، سمجھ نہ آنے پر ان کی حقیقت اور وجود سے انکار کر دیا۔
دوسری بات:
سوال نامہ میں جو عبارات درج کی گئی ہیں، اصولی طور پر ان پر اعتراض وارد نہیں ہوتا، کیوں کہ ان میں سے پہلی چار ؛ کا تعلق کرامت اور پانچویں عبارت کا تعلق خواب کے ساتھ ہے۔
کرامت کے اثر سے جو کام ظاہر ہو اس میں بنیادی طور پر دو باتیں موجود ہوتی ہیں:
پہلی یہ کہ وہ کام خرقِ عادت (خِلافِ عادت) ہوتا ہے۔
دوسری یہ کہ حقیقت میں وہ فعل اللہ تعالیٰ کا ہوتا ہے (کہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ پر موقوف ہوتا ہے) لیکن اس کا ظہور ”ولی“ کے ہاتھ پر ہوتا ہے۔
خرقِ عادت ہونے کی وجہ سے وہ کام سمجھ سے بالا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارادہ پر موقوف ہونے کی وجہ سے ”ولی“ کو کرامت کے ظہور میں کوئی ذاتی اختیار نہیں ہوتا کہ وہ (اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر)جب چاہے اپنی مرضی سے کرامت ظاہر کر دے۔
کرامت کی تعریف:
علامہ سید علی بن محمد الشریف الجرجانی رحمہ اللہ (ت816ھ) لکھتے ہیں:
ظُہُوْرُ أَمْرٍ خَارِقٍ لِّلْعَادَۃِ مِنْ قِبَلِ شَخْصٍ غَیْرِ مُقَارِنٍ لِّدَعْوَی النُّبُوَّۃِ [بِشَرْطِ أَنْ یَّکُوْنَ مَقْرُوْنًا بِالْإِیْمَانِ وَالْعَمَلِ الصَّالِحِ].
کتاب التعریفات للجرجانی: ص129
ترجمہ: خلافِ عادت کام کاایسے شخص سے صادر ہونا جو دعویٰ نبوت نہ کرتا ہو ”کرامت“ کہلاتا ہے [بشرطیکہ یہ شخص صاحبِ ایمان ہو اور عملِ صالح بھی کرتا ہو۔]
فائدہ:
٭ خلافِ عادت کام کا ظہور ”ولی“ کے ہاتھ پر ہو تو ” کرامت “ ہے، اگراس کا ظہور ” نبی “ کے ہاتھ پر ہو تو اس کو ” معجزہ “کہتے ہیں ۔
٭ معجزہ اور کرامت کا ظہور اللہ تعالیٰ کے ارادہ پر موقوف ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر ” نبی “ اور ”ولی“ کا کوئی اختیار نہیں ہوتا کہ جب چاہیں اپنی مرضی سے معجزہ یا کرامت ظاہر کر دیں۔
٭ معجزہ اور کرامت کا ظہور ہمیشہ خرقِ عادت امور میں ہوتا ہے، اس لیے معجزہ اور کرامت کے اثر سے ظاہر ہونے والے کام کا سمجھ سے بالا ہونا نہایت واضح ہے۔
٭ معجزہ اور کرامت سے مقصود اس ” نبی “ اور ”ولی“ کی تائید کرنا، اسے حق پر ثابت قدم رکھنا اور اس کے مخالفین کے سامنے اس کی قدر و منزلت کا اظہار کرنا ہوتا ہے۔
تیسری بات:
جو امور خلافِ عادت نہ ہوں وہ کرامت میں داخل نہیں، کیوں کہ کرامت کا تعلق اُن امور کے ساتھ ہے جو خلافِ عادت ہوں۔ ذیل میں چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں:
1 : تین سو ؛ نو سال تک سوتے رہنا (کرامتِ اصحابِ کہف)
عادت یہ ہے کہ انسان تھوڑا عرصہ (چند گھنٹے یا زیادہ سے زیادہ کئی دن)سو نے کے بعد بیدار ہو جائے اور خلافِ عادت یہ ہے کہ انسان کئی سو سال تک سویا رہے۔ جیسا کہ اصحابِ کہف غار میں تین سو نو سال تک سوئے رہے، یہ ان کی کرامت تھی۔
قرآن کریم میں ہے:
﴿وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا (٢٥)﴾
سورۃ الکہف: 25
ترجمہ: وہ اپنی غار میں تین سو سال اور نو سال اوپر کا عرصہ رہے۔
2 : پلک جھپکنے کی مقدار میں تخت لے آنا (کرامتِ آصف بن برخیاء)
عادت یہ ہے کہ کوئی غیر منقولی چیز مثلاً عمارت/ مکان / محل ایک جگہ سے دوسری جگہ انتہائی محنت ، مشقت اور بہت زیادہ وقت لگانے کے بعد منتقل ہو، اور خلافِ عادت یہ ہے کہ بغیر کسی دقت اور مشقت کے محض پلک جھپکنے کے دورانیہ میں کوئی محل ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جائے۔ جیسا کہ ملکۂِ بلقیس کا تخت آصف بن برخیا ء نے محض پلک جھپکنے کی مقدار میں منتقل کیا ، اور یہ آصف بن برخیا ء کی کرامت تھی۔
ملکہ بلقیس کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
﴿قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ﴾
سورۃ النمل: 40
ترجمہ: وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا، وہ (حضرت سلیمان سے) کہنے لگا: میں آپ کے پاس وہ تخت آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے لاتا ہوں۔ جب (حضرت سلیمان علیہ السلام نے) دیکھا تو اسے اپنے پاس پڑا ہوا پایا۔
3 : بے موسم پھل ملنا (کرامتِ حضرت مریم علیہا السلام)
عادت یہ ہے کہ ہرپھل اپنے موسم میں میسر ہو اور خلاف عادت یہ ہے کہ بغیر موسم کے پھل کسی سبب اور ذریعہ کے بغیر میسر ہو جائے ۔ جیسا کہ حضرت بی بی مریم علیہا السلام کو بغیر موسم کے پھل ملتے تھے، اور یہ ان کی کرامت تھی۔
قرآن کریم میں ہے:
﴿كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ﴾
سورۃ آل عمران: 37
ترجمہ: جس وقت بھی زکریا اس (مریم) کے پاس آتے تو اس کے پاس (بے موسم کے) پھل دیکھتے۔ انہوں (زکریا) نے فرمایا: اے مریم! یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا؟ وہ بولیں: یہ اللہ کی طرف سے ہے۔
[4]: کسی بشر کے مَس کیے بغیر بیٹا پیدا ہونا(کرامتِ حضرت مریم علیہا السلام)
عادت یہ ہے کہ مرد اور عورت کے ملاپ سے بچہ پیدا ہو اور خلافِ عادت یہ ہے کہ مرد کے چھوئے بغیر عورت کو بچہ مل جائے، جیسا کہ حضرت بی بی مریم علیہا السلام کو اللہ تعالیٰ نے بغیر شوہر کے بیٹا(حضرت عیسیٰ علیہ السلام) عطا فرمایا، یہ حضرت بی بی مریم علیہا السلام کی کرامت تھی۔
حضرت مریم کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
﴿قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا (۱۹) ﴾
ترجمہ: جبرئیل نے کہا: میں تو فقط تیرے رب کا ایک ایلچی ہوں اور اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تجھے ایک پاکیزہ بیٹا دے دوں۔
﴿قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا (٢۰) ﴾
ترجمہ: مریم نے کہا: میرے ہاں بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟ حالانکہ کسی انسان نے مجھے چھوا تک نہیں اور میں کوئی بدچلن عورت بھی نہیں۔
﴿قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا (٢۱) ﴾
سورۃ مریم: آیت 19،20،21
ترجمہ: جبرائیل نے کہا: ہاں، ایسے ہی ہو جائے گا۔ تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ میرے لیے بہت آسان ہے۔ اور یہ اس لیے ہو گا کہ ہم اسے لوگوں کے لیے ایک نشانی اور اپنی طرف سے ایک رحمت بنا دیں۔ اور یہ امر پہلے سے طے شدہ ہے۔
[4]: بغیر کسی آلہ کے سینکڑوں میل دور آواز پہنچ جانا(کرامتِ حضرت عمر رضی اللہ عنہ)
عادت یہ ہے کہ انسان کی آواز کسی آلہ اور سبب کے بناء سینکڑوں میل دور تک نہ پہنچ پائے اور خلافِ عادت یہ ہے کہ بغیر کسی آلہ اور سبب کے سینکڑوں میل دور تک انسان کی آواز پہنچ جائے۔ جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ منوّرہ میں دورانِ خطبہ تین مرتبہ یہ آواز دی” یَا سَارِیَ الْجَبَلَ “ اور آپ کی یہ آواز سینکڑوں میل دور حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ کے کانوں تک بغیر کسی آلہ اور ذریعہ کے پہنچ گئی تھی، یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کرامت تھی۔
امام ابو عبد اللہ احمد بن حنبل البغدادی رحمہ اللہ (ت241ھ) روایت نقل کرتے ہیں:
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَعَثَ جَيْشًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا يُدْعَى سَارِيَةَ، قَالَ: فَبَيْنَا عُمَرُ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمًا، قَالَ: فَجَعَلَ يَصِيحُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: يَا سَارِيَ الْجَبَلَ، يَا سَارِيَ الْجَبَلَ، قَالَ: فَقَدِمَ رَسُوْلُ الْجَيْشِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَقِينَا عَدُوَّنَا فَهَزَمْنَاهُمْ، فَإِذَا بِصَايِحٍ يَصِيحُ: يَا سَارِيَ الْجَبَلَ، يَا سَارِيَ الْجَبَلَ، فَأَسْنَدْنَا ظُهُورَنَا بِالْجَبَلِ فَهَزَمَهُمُ اللهُ، فَقِيلَ لِعُمَرَ، يَعْنِي: ابْنَ الْخَطَّابِ: إِنَّكَ كُنْتَ تَصِيحُ بِذٰلِكَ.
فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل: ص 331، 332 فضائل امیر المؤمنین عمر بن الخطاب ، رقم الحدیث355
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا سالار حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا۔ ایک دن خطبہ کے دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اچانک یہ آواز لگائی : اے ساریہ پہاڑ کی اوٹ میں ہو جاؤ۔ اس طرح تین مرتبہ فرمایا ۔ پھر اس لشکر کی خبر دینے والا شخص مدینہ منورہ آیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس لشکر کا حال دریافت کیا تو اس نے کہا کہ امیر المومنین! ہم لوگ شکست کھا گئے اور اس شکست کی حالت میں تھے کہ ہم نے یکایک ایک آواز سنی جس نے تین بار کہا کہ اے ساریہ پہاڑ کی اوٹ میں ہو جاؤ ۔ ہم نے پہاڑ کی اوٹ میں پناہ لی ، اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست دی۔ لوگوں نے کہا کہ اے امیر المومنین! آپ ہی تو تھے جس نے اس طرح آوازدی تھی۔
کرامت کی تعریف اور مثالوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ سوال نامہ میں ذکر کیے گئے واقعات میں سے ہر ایک واقعہ کرامت کے تحت داخل ہے۔
[1]: عادت یہ ہے کہ انسان کو چند گھنٹوں بعد وضو کی ضرورت پیش آئےاور خلافِ عادت یہ ہے کہ کئی دنوں کے بعد وضو کی ضرورت لاحق ہو۔
[2]: عادت یہ ہے کہ انسان روزانہ ایک بار قرآن کریم کا ختم کر لے اور خلافِ عادت یہ ہے کہ روزانہ متعدد بار ختم کر لے۔
[3]: عادت یہ ہے کہ انسان یومیہ بیسیوں رکعت نماز پڑھ لے اور خلافِ عادت یہ ہے کہ روزانہ سینکڑوں رکعات پڑھ لے۔
[4]: عادت یہ ہے کہ انسان کو چند گھنٹوں کے بعد لیٹ کر آرام کی ضرورت پیش آ جائےاور خلافِ عادت یہ ہے کہ انسان کو ایک طویل مدت تک لیٹ کر آرام کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ جیسے ایک طویل مدت تک سوئے رہنا خلافِ عادت ہے مگر محال نہیں، ایسے ہی طویل مدت تک لیٹ کر آرام نہ کرنا خلافِ عادت ہے، محال نہیں۔
فائدہ:
کرامت کا ظہور باعثِ فضیلت تو ہے لیکن باعثِ افضلیت نہیں، یعنی کرامت کی وجہ سے صاحبِ کرامت ولی کو فضیلت تو حاصل ہو گی لیکن اس کی وجہ سے وہ اپنے سے زیادہ مقام و مرتبہ والوں سے افضل نہیں بنے گا، رتبہ اور درجہ میں افضل وہی رہیں گے جن کا مقام ومرتبہ اس صاحب ِ کرامت ولی سے زیادہ ہے۔
لہٰذا یہ اعتراض کرنا غلط ہے کہ فلاں ولی کو یہ چیز کیسے مل گئی جب کہ اس سے زیادہ مقام و مرتبہ والے کو نہیں ملی۔ یہ اعتراض درست نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ کرامت محض اللہ کریم کی عطا اور نعمت ہے اس نعمت کے ظہور کےلیے مقام و مرتبہ میں افضل ہونا شرط نہیں، بسا اوقات زیادہ مقام و مرتبہ والے کو اللہ تعالیٰ ایک چیز عطا نہیں فرماتے مگر اس سے کم رتبہ والے کو عطا فرما دیتے ہیں۔ ذیل میں اس کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں:
[1]: حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی رخصت ہو گئی، وہ اپنا ہاتھ مبارک آنکھوں پہ لگاتے ہیں مگر بینائی واپس نہیں آئی، لیکن سیدنا یوسف علیہ السلام کا قمیص جیسے ہی چہرے پہ پھیرا تو بینائی لوٹ آئی۔ مقام و مرتبہ میں حضرت یوسف علیہ السلام کم اور حضرت یعقوب علیہ السلام زیادہ ہیں اور حضرت یعقوب علیہ السلام کا ہاتھ حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص سے افضل ہے۔
[2]: حضرت سلیمان علیہ السلام وقت کے نبی ہیں، ان کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے، ان کے ذریعے سے ملکہ بلقیس کا تخت منتقل نہیں ہوا، بلکہ یہ کام آصف بن برخیاء کے ذریعے سے ہوا جو مقام و مرتبہ میں کم تھا۔
[3]: حضرت زکریا علیہ السلام وقت کے نبی ہیں، ان کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے، انہیں بغیر موسم کے پھل نہیں ملے، جب کہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا جو مقام و مرتبہ میں کم ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ نے بغیر موسم کے پھل عطا فرمائے۔
[4]: قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرتے تھے، لیکن یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نہیں ہے ، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہیں۔
ایک الزام کا جواب:
معترض کی طرف سے یہ کہنا کہ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ نے یہ لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز میں خود کو رسی سے باندھ لیا کرتے کہ غلبہ نیند سے گرنے کا اندیشہ ہوتا تھا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان ہے، العیاذ باللہ۔
اس کے جواب میں عرض ہے کہ اگر یہ بات شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ اپنی طرف سے لکھتے تب اعتراض لازم آتا، یہ بات متعدد کتب میں موجود ہےا ور حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے محض اسے نقل فرمایا ہے۔ چند حوالہ جات ملاحظہ ہوں:
[1]: امام ابو اسحاق احمد بن محمد بن ابراہیم الثعلبی النيسابوری رحمہ اللہ (ت 427 ھ)نقل فرماتے ہیں:
قال مجاهد : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه يربطون الحبال في صدورهم في الصلاة بالليل (من طول القیام) ثم نسخ ذلك بالفرض ، وأنزل الله تعالٰى هذه الآية .
الکشف والبیان فی تفسیر القرآن : ج4ص 199
ترجمہ: حضرت امام مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رات کی نماز (تہجد) میں قیام کے طویل ہونے کی وجہ سے اپنے سینوں کو رسی کے ساتھ باندھ لیا کرتے ۔ پھر جب (پنجگانہ )نمازیں فرض ہوئیں تو اس نماز(تہجد) کی فرضیت منسوخ ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
[2]: امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد الانصا ری القرطبی المالکی رحمہ اللہ (ت671ھ) لکھتے ہیں:
قال مجاهد كان النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه يربطون الحبال في صدورهم في الصلاة بالليل من طول القيام ثم نسخ ذلك بالفرض فنزلت هذه الآية
الجامع لأحكام القرآن: ج 2ص 1991
ترجمہ: حضرت امام مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رات کی نماز(تہجد) میں قیام کے طویل ہونے کی وجہ سے اپنے سینوں کو رسی کے ساتھ باندھ لیا کرتے ۔(تاکہ نیند کے غلبہ سے گرنے سے محفوظ رہیں)۔ پھر (پنجگانہ)نمازیں فرض ہونے کی وجہ سےاس نماز(تہجد) کی فرضیت منسوخ ہو گئی ، پس یہ آیت نازل ہوئی۔
[3]: علامہ جلال الدین عبد الرحمٰن بن ابی بکر السیوطی الشافعی رحمہ اللہ(ت911 ھ) نقل فرماتے ہیں:
وأخرج ابن عساكر عن ابن عباس قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام من الليل يربط نفسه بحبل كي لا ينام فأنزل الله عليه ! “طه ما أنزلنا عليك القرآن لتشقیٰ”
الدر المنثور فی التفسیر المأثور: ج 04ص 516
ترجمہ: امام ابنِ عساکر رحمہ اللہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی سند سے اس حدیث کی تخریج کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو (تہجد کی) نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو خود کو رسی سے باندھ لیا کرتے تاکہ نیند غالب نہ آ جائے، تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ آیت نازل فرمائی۔
” طٰهٰ ما أنزلنا عليك القرآن لتشقیٰ” (طہٰ! ہم نے آپ پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں۔ )
[4]: محمد بن علی بن محمد الشوکانی (ت 1255 ھ) لکھتے ہیں:
وأخرج ابن عساكر عنه أيضا قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا قام من الليل يربط نفسه بحبل لئلا ينام فأنزل الله هذه الآية
فتح القدير الجامع بين فنی الروايۃ والدرایۃ من علم التفسير للشوکانی: ج3 ص514
ترجمہ: امام ابنِ عساکر رحمہ اللہ نے یہ حدیث بھی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی سند سے روایت کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو (تہجد کی) نماز کے لیے قیام فرماتے خود کو رسی سے باندھ لیا کرتے تاکہ نیند غالب نہ آ جائے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
چوتھی بات:
حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے شیخ عبدالواحد رحمۃ اللہ علیہ کا ایک واقعہ نقل کیا ہے، معترض نے اس واقعہ کو بنیاد بنا کر یہ اعتراض کیا ہے کہ صوفیا ء کرام ؛ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے عبادت نہیں کرتے بلکہ خوب صورت لڑکیوں کے لیے کرتے ہیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے وہ واقعہ من و عن نقل کر دیا جائے ، واقعہ حسب ِذیل ہے:
”شیخ عبدالواحد مشہور صوفیا ءمیں ہیں، فرماتے ہیں کہ ایک روز نیند کا اتنا غلبہ ہوا کہ رات کو اَوراد و وظائف بھی چھوٹ گئے، خواب میں دیکھا کہ ایک نہایت حسین خوبصورت لڑکی سبز ریشمی لباس پہنے ہوئے ہے، جس کے پاؤں کی جوتیاں تک تسبیح میں مشغول ہیں، کہتی ہے کہ میری طلب میں کوشش کر ، میں تیری طلب میں ہوں، اس کے بعد اُس نے چند شوقیہ شعر پڑھے۔ یہ خواب سے اٹھے اور قسم کھا لی کہ رات کو نہیں سوؤں گا ، کہتے ہیں کہ چالیس (40)برس تک صبح کی نماز عشاء کے وضو سے پڑھی۔ “
(فضائل اعما ل: فضائل نماز باب سوم ص 260 )
اس واقعہ پر جو اعتراض کیا گیا ہے اس کے جواب میں عرض ہے کہ یہ خواب کا واقعہ ہے اور خواب میں نظر آنے والی لڑکی دنیا کی نہیں بلکہ جنت کی تھی، اس کا واضح قرینہ خود اسی خواب میں موجود ہے کہ اس لڑکی کے پاؤں کی جوتیاں تک تسبیح میں مشغول تھیں۔
معلوم ہوا کہ وہ لڑکی دنیاوی دوشیزہ نہیں بلکہ جنتی حور تھی اور حور جنت کی نعمتوں میں سے ایک بہترین نعمت ہے۔ جنت کو طلب کرنا اور جنت کی نعمتوں کا اشتیاق رکھنا یہ شرعاً محمود و مطلوب ہے، یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا سے ہٹ کر نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جنت اور اس کی نعمتوں کو طلب کرنا در اصل اللہ تعالیٰ کی رضا کو طلب کرنا ہے۔
یہ بات یاد رہے کہ جنت میں دخول اور اس کی نعمتوں کا حصول یہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی ظاہری صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے بغیر جنت میں داخلہ اور جنت کی نعمتوں سے استفادہ ممکن ہی نہیں ہے، جو انسان بھی جنت میں داخل ہوگا اس کا لازمی معنی یہی ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ کی رضا نصیب نہ ہو گی وہ کبھی بھی جنت میں نہ جا سکے گا۔ تو ثابت ہوا کہ جنت میں دخول اور اس کی نعمتوں کا حصول یہ اللہ کی رضا کی علامت ہے اور ان دونوں کی طلب حقیقت میں رضائے الٰہی کی طلب ہے۔
قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں جنت کو طلب کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ (١٣٣)
آلِ عمران: 133
ترجمہ: اور دوڑو اپنے رب کی مغفرت اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑائی تمام آسمانوں اور زمین جتنی ہے، جو کہ متقین کے لیے تیار کی گئی ہے۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ فَسَلُوْهُ الْفِرْدَوْسَ
اتحاف الخیرۃ المھرۃ: رقم الحدیث 765
ترجمہ: جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو۔
اللہ تعالیٰ نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کو طلب کرنے کی نہ صرف ترغیب دی ہے جنت کی مختلف نعمتوں (حور و غلمان، دودھ و شہد کی بہتی نہروں اور کھانے پینے کی مختلف اشیاء )کے اوصاف کو بھرپور طریقے سے بیان فرمایا ہے۔
فرمانِ خدا ؛اور فرمانِ مصطفیٰ دونوں کے اسلوب سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ جنت اور اس کی نعمتوں کی طلب دونوں ہی رضائے الٰہی کے مطابق ہیں، ایسا ہرگز نہیں کہ جنت کی طلب تو رضائے الٰہی کے مطابق ہو مگر اس کی نعمتوں کی طلب رضائے الٰہی کے خلاف ہو۔
خلاصۂِ کلام!
درج بالا تفصیل سے واضح ہوا کہ ” معجزہ “ اور ” کرامت “ برحق ہیں، اللہ کریم نے اپنے انبیاء کرام علیہم السلام کو مختلف معجزات اور اپنے اولیاء کرام کو مختلف کرامات عطا فرمائے ۔
معجزات اور کرامات کا انکار ضلالت و گمراہی ہے۔ ” معجزہ “ اور ” کرامت “ کے اثر سے ظاہر ہونے والا فعل چونکہ خلافِ عادت ہونے کی وجہ سے سمجھ سے بالاتر ہوتاہے، اس لیے ”نبی “ کے ” معجزہ “ اور”ولی“ کی ” کرامت “ میں کوئی تعجب کی بات نہیں ۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved