• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

فترتِ وحی سے متعلق اشکال کا جواب

استفتاء

ایک حدیث مبارک کے بارے میں جاننا ہے کہ وہ واقعتاً موجود ہے یا نہیں؟ اگر موجود ہے تو اس کا صحیح مطلب کیا ہے؟ وہ یہ ہے:
“امام بخاری رحمہ اللہ اپنی کتاب صحیح بخاری میں یہ حدیث نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہ کچھ دن وحی کا سلسلہ منقطع ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت پریشان ہوئےاور پریشانی کے عالم میں ایک پہاڑ کا نام لیا اور فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کے میں خود کو اس پہاڑ سے نیچے گر ا دوں۔ اس پہ اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ چیز تو بظاہر خودکشی معلوم ہوتی ہے اور یہ مقامِ نبوت کے منافی ہے۔ اس کی صحیح توجیہ کیا ہے، راہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جس حدیث مبارک کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے یہ صحیح بخاری میں موجود ہے، مگر اس کا وہ مطلب لینا جو منکرینِ حدیث لیتے ہیں قطعاً درست نہیں۔ اس کی توجیہ میری کتاب “سیرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم میں لکھی  ہے، جس سے یہ اشکال بالکل ختم ہو جاتا ہے۔  ملاحظہ کیجیے: 
فترتِ وحی:
اس کے بعد کچھ عرصہ کے لیے وحی کا آنا بند ہوگیا جسے اِصطلاح میں ”فترتِ وحی“ کہتے ہیں ۔اگرچہ حضرت جبرئیل امین اس عرصہ میں بھی آتے رہے۔ یہ اس لیے ہوا تاکہ قلبِ اطہر میں پہلی وحی کے نزول کی ایک ہیبت اور خوف ہے وہ دور ہو جائے مزید یہ کہ آئندہ وحی کا شوق پیدا ہو جائَے ۔ وحی کے رک جانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر حزن و ملال ہوا کہ آپ پہاڑ پر تشریف لے گئے  اور خود کو پہاڑ سے گرانے کا ارادہ فرما لیا ۔اچانک ایک آواز آئی جسے سن کر آپ رک گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر دیکھا تو حضرت جبرئیل امین آسمان وزمین کے درمیان ایک کرسی پر جلوہ افروز تھے
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی:
يَا مُحَمَّدُ أَنْتَ رَسُولُ اللهِ حَقًّا وَأَنَا جِبْرِيلُ۔
اے محمد!محبوب حقیقی سے لقاء کے شوق میں اپنی جان ابھی  جان آفرین کے سپرد  نہ کریں بلکہ آپ پر رسالت کی ذمہ دار عائد ہو چکی ہے وہ پوری فرمائیں کیونکہ ( آپ اللہ کے برحق رسول ہیں ۔  میں جبرئیل آپ سے مخاطب ہوں ۔ 
(فتح الباری شرح صحیح البخاری)
زمانۂِ فَترت  میں شوقِ لقاء کی کیفیت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر طاری ہونے والی یہ کیفیت اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کے دل میں محبتِ الہیہ  خوب موجزن تھی اس لیے اللہ کی طرف سے وحی  کے نزول میں تاخیر آپ کو گراں گزر  رہی تھی اس کے بغیر اپنی زندگی کو بے کار سمجھنے لگے۔ ایسے جیسے کسی بندہ مومن کو محبتِ الہیہ میں سچی  شہادت کی طلب ہوتی ہے۔  اس لیے یہ کیفیت محمود )قابل صد تعریف( ہے۔ العیاذ باللہ!یہ وہ کیفیت نہیں تھی  جو  رحمتِ الہیہ سے مایوس  لوگوں پر اکثر طاری ہوتی ہے اور وہ حالات سے تنگ آ کر خود کشی  کی تمنا کرنے لگتے ہیں یا پھر خود کشی کر لیتے ہیں اس لیے رحمتِ الہیہ سے مایوس ہو کر خود کشی کرنے والی کیفیت مذموم قابل مذمت ہوتی تھی ۔ “
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved