- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
دریافت یہ کرنا ہے کہ ملائکہ کسے کہتے ہیں اور یہ مذکر ہوتے ہیں یا مؤنث؟براہِ کرم اس کے بارے میں آگاہ فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
فرشتے اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے نور سے پیدا فرمایا ہے۔علامہ عبد العزیز پرہاڑوی الحنفی(ت1239 ھ) فرشتوں کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اِنَّھَااَجْسَامٌ لَطِیْفَۃٌ نُوْرَانِیَّۃٌ قَادِرَۃٌ عَلَی التَّشَکُّلِ بِالْاَشْکَالِ.(مرام الکلام فی عقائد الاسلام از مولاناعبدالعزیزپرہاروی: ص9)
ترجمہ:
“فرشتے نورسے پیداکی جانے والی لطیف مخلوق ہے جومختلف شکلوں میں آنے پرقدرت رکھتی ہے”۔فرشتے نہ ہی مرد ہوتے ہیں نہ عورت۔ قرآن و حدیث میں جہاں بھی فرشتوں کا تذکرہ ہے وہاں ان کو مذکر یا مؤنث کے طور پر بیان نہیں کیا گیا، اس لیے انہیں مذکر کہا جائے نہ مؤنث۔ علامہ عبد العزیز پرہاڑوی الحنفی(ت1239 ھ) لکھتے ہیں:
وَلَا یُوْصَفُوْنَ بِذُکُوْرَۃٍ وَلَا أُنُوْثَۃٍ ٳِذْ لَمْ یَرِدْ بِہٖ نَقْلٌ، أَمَّا التَّذْکِیْرُ فِی الضَّمَائِرِ وَٳِسْنَادِ الْأَفْعَالِ فَکَمَا فِی الْأَسْمَاءِ الْٳِلٰہِیَّۃِ وَذٰلِکَ لِشَرَافَۃِ التَّذْکِیْرِ.(النبراس فی شرح شرح العقائد:ص288)
ترجمہ:
فرشتے نہ مذکر ہوتے ہیں نہ مؤنث، کیوں کہ قرآن وحدیث میں اس بارے میں کوئی بات منقول نہیں۔ رہا ان کے لیے مذکر کی ضمائر استعمال کرنا یا مذکر فعل کی نسبت کرنا تو یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کے اسماء میں ہوتا ہے (کہ ضمیر مذکر اور نسبت بھی مذکر والے فعل کی)۔ اور یہ مذکر لانا بھی ان کے مقام ومرتبہ کو بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے (نہ کہ ان کی جنس کو بیان کرنے کے لیے)۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved