• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

الیکشن کے امیدوار کی طرف سے مسجد میں دی گئی چٹائیوں پر نماز کا حکم

استفتاء

بعد سلام مسنون خدمتِ عالیہ میں عرض ہے کہ ایک صاحب الیکشن میں امیدوار کے طور پر ہیں (الیکشن لڑ رہے ہیں)  اُن صاحب نے مسجد میں نماز کے لیے چٹائیاں دی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ چٹائیاں استعمال کرنا کیسا ہے؟مفصل جواب دے کر ممنون و مشکور ہوں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

لوگوں کے بارے میں حسنِ ظن سے کام لینا چاہیے۔ جب تک سوءِ ظن کی کوئی قوی دلیل موجود نہ ہو کسی کے بارے میں برا گمان قائم کرنا درست نہیں۔ عام طور پر الیکشن یا اس جیسے دیگر مواقع پر امیدواران اس قسم کے رفاہی کام کرتے رہتے ہیں۔ ان کی نیت کبھی یہ ہوتی ہے کہ ان رفاعی کاموں سے انہیں اپنے مقصد میں کامیابی حاصل ہو اور کبھی مقصد عوام الناس کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہوتا ہے۔ بظاہر یہ نیت غلط بھی نہیں۔ اس لئے ان کی طرف سے دی گئی چٹائیوں پر نماز ادا کرنا درست ہے۔ ہاں! اگر آپ کو ان کے اس عمل میں کوئی ایسی خرابی معلوم ہو رہی ہے جو آئندہ چل کر فتنہ و فساد کا ذریعہ بن سکتی ہے تو ایسی چٹائیاں لینے سے احترازبھی  کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے انفرادی رائے قائم کرنے کے بجائے مسجد کمیٹی اور وہاں کے سنجیدہ اور صاحبِ رائے افراد سے مشورہ کر کے اسی کے مطابق عمل کیا جائے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved