• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

دندان مبارک سے نکلنے والے نور سے کیا مراد ہے؟

استفتاء

میں نے ایک حدیث پاک میں پڑھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک سے نور نکلتا تھا، تو پوچھنا یہ ہے کہ یہ نور کس قسم کا تھا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

میری کتاب “زبدۃ الشمائل ” میں اس کی وضاحت موجود ہے، جو کہ حسبِ ذیل ہے:
“امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایک خاص بات حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ نقل فرمائی ہے کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک قدرے کشادہ تھے یعنی ان میں کسی قدرفاصلہ تھا:اِذَا تَکَلَّمَ رُاِیَ کَالنُّوْرِ یَخْرُجُ مِنْ بَیْنِ ثَنَایَاہُ.کہ جب حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو فرماتے تھے تو دندان مبارک کے درمیان سے ایک نور سا نکلتا دکھائی دیتا تھا۔محدثین نے اس کے دو مطلب بیان فرمائے ہیں:
1: ․․․ حقیقۃً نور حسی طور پر نظر نہ آتا تھا البتہ وہ کلام نورانی ہوتا تھا۔2:․․․ علامہ منادی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ کوئی چیز حسی طور پر نکلتی دکھائی دیتی تھی جو کہ نورانی ہوتی تھی اور یہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا معجزہ تھا۔(زبدۃ الشمائل: ص45)
واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved